جولائی 31, 2026

ایران کا امریکی فضائی نگرانی میں چلنے والے دو آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

تہران: ایران کی اسلامی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جو ایرانی حکام کے مطابق امریکی فوج کی فضائی نگرانی میں متبادل بحری راستہ استعمال کر رہے تھے۔پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں آئل ٹینکروں نے آبنائے ہرمز عبور کرنے کے لیے ایران کی جانب سے مقرر کردہ بحری راستے کے بجائے ایک "غیر اعلانیہ راستہ” اختیار کیا، جسے امریکا کی حمایت یافتہ متبادل گزرگاہ قرار دیا گیا۔بیان کے مطابق ایرانی فورسز کی کارروائی کے بعد دونوں آئل ٹینکرز کو روک دیا گیا، جبکہ مزید چار آئل ٹینکروں نے اپنا سفر جاری رکھنے کے بجائے راستہ تبدیل کرتے ہوئے واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا۔پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی ایران کی بحری ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے کی گئی، تاہم بیان میں متاثرہ جہازوں کی شناخت، ان پر موجود عملے یا کسی ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔تاحال امریکا یا متعلقہ بحری کمپنیوں کی جانب سے ایران کے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے، جبکہ اس واقعے کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔دفاعی اور بحری امور کے ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی عالمی تیل کی ترسیل، بحری تجارت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے مسلسل تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے، کیونکہ دنیا کے تیل کی بڑی مقدار اسی اہم بحری راستے سے گزرتی ہے۔