اسلام آباد: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، انہیں ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالنے ہوں گے یا پھر ہم انہیں ختم کر دیں گے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردوں کو سمجھ آ گیا ہے کہ ان سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی، دہشت گرد یا تو قانون کے مطابق ہتھیار ڈال دیں یا پھر ہم ان کے خلاف لڑیں گے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ جان بوجھ کر یہ تاثر ہپھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بلوچستان میں حالات خراب ہیں، بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں مخصوص عناصر ملوث ہیں، معرکہ حق میں دشمن کی حکمت عملی ناکام ہونے پر بلوچستان میں نظریں جمائی گئیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ لاپتا افراد مستونگ، خضدار اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی میں ملوث پائےگئے اور اکثر آپریشن کے دوران ہلاک حملہ آوروں میں اکثر لاپتا افراد ہوتے ہیں، افغانستان اور بھارت کے درمیان بی ایل اے کے علاوہ اور کیا چیز مشترکہ ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ جن مسنگ افراد کی فہرستیں دی جاتی ہیں وہ کہیں لڑائی میں مارے جاتے ہیں، لاپتا افراد کی فہرست کو لاپتا بی ایل اے کے دہشت گردوں سے ملائیں تو ایک جیسی ہوگی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ لاپتا افراد سے متعلق کبھی کہا جاتا ہے کہ 10ہزار کبھی 20 ہزار کہتے ہیں، لاپتا افراد کا پروپیگنڈا بھی ناکام ہوگیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ 5سال کے دوران انسداد دہشتگردی کے لیے مجموعی طور پر 40ہزار 348 انٹیلی جنس بیسٹ آپریشنز کیے گئے جس میں 2ہزار84 دہشت گردوں کا ہلاک کیا گیا۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ بلوچستان میں 31ہزار 80 اور کے پی میں 7ہزار 177 آہریشن کیے گئے، پاکستان کے دیگر علاقوں میں 2ہزار 91 آئی بی اوز کیے گئے۔ بلوچستان میں 178 شہید، 55 اغوا اور 24 پل تباہ ہوئے جبکہ بلوچستان میں پولیس اور لیوی کے خلاف 105 واقعات ہوئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ رواں سال اب تک دہشتگردی کے خلاف جنگ میں آرمی کے 303 جوان اور 322 شہری شہید ہو چکے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ 2026 میں دھماکوں کے 28 واقعات ہوئے جن میں زیادہ تر افغانی شامل ہیں جبکہ ٹانک اور کراچی میں پیش آنے والے واقعات میں افغانی باشندے ملوث تھے۔ افغان طالبان رجیم کا ایک ہی کام ہے یہ دہشت گردی کو بطور کاروبار کرتے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم ان کو باہر نکل کر مار ر ہے ہیں، ہم ان کا شکار کر رہے ہیں، اس لیے اب فتنۃ الخوارج، فتنۃ الہندوستان اور ان کے بھارت میں بیٹھے ہینڈلرز اب سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ بلوچستان کی بچیوں کے ساتھ ایک واردات ڈال رہے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آج ہمیں بلوچستان کے بنیادی مسئلے پر پہنچنا ہے، صوبے کا مسئلہ وہیں کے سردار اور ایلیٹ طبقہ ہے، ایلیٹ اور سردار کہتے ہیں کہ غریب کا بچہ تعلیم حاصل نہ کر سکے، ان کو لیویز فورس کی تنخواہیں چاہئیں، ان کو اپنے ذاتی گھروں کی چوکیداری کے لیے لیویز فورس چاہیے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ دہشت گروں کا ایک قبیلہ ہے جس میں اسٹیٹس کو ہے اور اسٹیٹس کو یہ ہے کہ غریب کا بچہ پڑھے نہیں اور ہمیشہ ان کا غلام رہے۔ کیا حقوق کی بات کرنے والے اپنے فرائض سے بھی آگاہ ہیں؟ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ کاروبار کے نام پر منشیات اور ڈیزل اسمگلنگ کرتے ہیں، سردار چاہتے ہیں 1000 ارب کے بجٹ میں حصہ ملے لیکن نہیں دیں گے، سردار کہتے ہیں ہمیں حصہ نہیں دو گے تو دہشت گردی کروائیں گے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ انہیں عادت ہے لیویز میری ذاتی فورس ہے، میں اس کا سردار ہوں، انہیں مسئلہ ہے کہ ہمارے پیروں کو ہاتھ کیوں نہیں لگایا جا رہا جبکہ بلوچستان کے عوام ہی اصل میں صوبے کے اسٹیک ہولڈرز ہیں، یہ اپنے غیر قانونی دھندوں کے لیے پرمٹس مانگتے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کیا ہم ہارڈ اسٹیٹ ہے یا نہیں؟ ہارڈ اسٹیٹ وہ ہوتی ہے جس میں تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق ہوں، ہارڈ اسٹیٹ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ملٹری ریاست کو چلا رہی ہے۔ آئین کا آرٹیکل 5 بالکل واضح کہتا ہے وفاداری صرف ریاست سے ہوگی۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ پاکستان میں آئین و قانون سب کے لیے یکساں ہے، آئین و قانون کے مطابق سب معاملات کو دیکھنا ہوگاوزیر داخلہ محسن نقوی کے انتظامی یونٹ بنانے اور نظام ناکام ہونے کے سوال پر انہوں ںے کہا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے میں اس پر رائے زنی نہیں کرنا چاہتا تاہم پھر بھی اتنا ضرور کہوں گا کہ گڈ گورننس استحکام اور سیکیورٹی کے لیے ناگزیر ہیں، نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات موجود ہیں جس پر تمام سیاسی جماعتوں کے دستخط ہیں اس پر عمل کیوں نہیں ہورہا؟ ایک پوائنٹ یہاں ڈسکس کرلیا، بقیہ 13 نکات بھی تو ہیں جن میں نارکوٹکس اور اسمگلنگ و دیگر ہیں، افغان مہاجرین ہیں، مدارس کی رجسٹریشن ہے، یہ سب گڈ گورننس پر منحصر ہے، آبادی بڑھ گئی اور صوبے وہیں کے وہیں ہیں تو گڈ گورننس کو بہتر کرنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا سب سے لاڈلہ بچہ کشمیر ہے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا ہے اور رہے گا، ہمارے بچے بڑے ہوں گے تو ان کی ایک ہی آواز رہے گی کشمیر بنے گا پاکستان، کشمیر ہمارا ہے اور ہمارا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے اور کشمیر بھی ہمارا ہے اور دوسری جانب آپ تقاریر میں پاکستان کو قابض فوج کہہ رہے ہیں، یہ بتائیں اسی فوج میں ایک لاکھ تو کشمیری شامل ہیں، کتنے پاکستانی مجاہدین اور پاکستانی فوجی افسران نے کشمیر میں جاکر شہادت دی ہے آپ انہیں قابض فوج کہہ رہے ہیں، فوج کا اس معاملے سے کوئی تعلق بھی نہیں، یہ معاملہ آزاد کشمیر پولیس کا ہے، سب انسپکٹر نعیم کشمیری ہے اس کی زندہ حالت میں آنتیں نکال دیں۔




