جولائی 12, 2026

چیونٹیوں کا ’گوگل میپ‘ جو انھیں میٹھی چیزوں تک پہنچاتا ہے

باورچی خانے میں چائے بناتے وقت چینی کے چند دانے چولہے کے نیچے گر جاتے ہیں۔۔۔ یا کسی خوشی کے موقع پر تیار کی گئی کھیر کے چند قطرے کمرے کے کسی کونے میں ٹپک جاتے ہیں اور ابھی کبھار جس لڈو سے آپ لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں، اس کا کچھ حصہ ٹوٹ کر میز کے نیچے گر جاتا ہے۔ہمارے لیے یہ خوراک کا معمولی ضیاع ہوتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ اس کے بعد گھر میں سب کچھ پُر سکون ہے۔لیکن حقیقت میں گھر اتنا پُر سکون نہیں رہتا۔کہیں نہ کہیں فرش کی دراڑوں، دروازے کی دہلیز کے نیچے یا دیواروں کے نم کونوں سے کچھ چیونٹیاں آپ کی گرائی ہوئی چینی اور میٹھے کھانے کے ٹکڑوں کی جانب روانہ ہو جاتی ہیں۔وہ اپنے اینٹینا کے ذریعے گھر کی سطح کو محسوس کرتی ہیں، ایسی خوشبوؤں اور کیمیائی اشاروں کو پہچانتی ہیں جنھیں انسان محسوس نہیں کر سکتے اور انتہائی درست انداز میں آپ کی گرائی ہوئی خوراک تک پہنچ جاتی ہیں۔اگلی صبح تک ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ میٹھی خوراک کے گرد چیونٹیوں کی ایک لمبی قطار لگی ہوتی ہے اور وہ جھنڈ کی صورت میں وہاں جمع ہوتی ہیں۔آخر چیونٹیاں اتنی درستی کے ساتھ میٹھی خوراک کیسے ڈھونڈ لیتی ہیں؟ وہ چینی کے دانوں یا لڈو کے ٹکڑوں تک اچانک کیسے پہنچ جاتی ہیں
چیونٹیوں کے گھروں کے مختلف درجے ہوتے ہیں۔ ان میں ملکہ چیونٹی کے انڈے دینے اور خوراک رکھنے کے لیے الگ الگ حصے ہوتے ہیں۔
ایسا نہیں کہ آپ کے گھر سے کافی دور موجود کسی چیونٹی نے پورے باورچی خانے کی خوشبو سونگھ لی ہو۔اس کے پیچھے ایک نہایت دلچسپ، حیران کن اور انتہائی مؤثر نظام کام کرتا ہے۔ چیونٹیوں میں فطرت کے قدیم ترین ’سرچ انجنز‘ میں سے ایک نصب ہوتا ہے۔ یہ سرچ انجن کیمیائی اشاروں، یادداشت اور اجتماعی فیصلہ سازی پر مبنی ایک نیٹ ورک کی طرح کام کرتا ہے۔2016 میں پٹیالہ کی پنجابی یونیورسٹی کے محقق ہیمنندر بھارتی نے چین اور جاپان کے تین دیگر محققین کے ساتھ مل کر انڈیا میں پائی جانے والی چیونٹیوں کی انواع کی فہرست تیار کی تھی۔ان کی تحقیق کے مطابق انڈیا میں چیونٹیوں کی 828 انواع اور ذیلی انواع کا اندراج کیا گیا۔2024 میں تمل ناڈو میں کیے گئے ایک مطالعے کے دوران رہائشی علاقوں سمیت مختلف ماحول میں چیونٹیوں کی 34 اقسام کی موجودگی ریکارڈ کی گئی۔لہٰذا آپ کے باورچی خانے میں آنے والی چیونٹی کسی ایک مخصوص قسم کی نہیں ہوتی۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً تمام چیونٹیوں کا طرزِ زندگی ایک جیسا ہوتا ہے۔چیونٹیاں اپنے جسم سے خارج ہونے والے کیمیائی مادوں کے ذریعے ان غذائی اشیا کو نشان زد کرتی ہیں جنھیں وہ دریافت کرتی ہیں۔
چیونٹیوں کے خوراک تلاش کرنے کے عمل میں کئی مراحل شامل ہوتے ہیں۔ پہلا مرحلہ تلاش کا ہوتا ہے۔ہر وقت کچھ مزدور چیونٹیاں دیواروں کی دراڑوں، کھڑکیوں کے فریموں، پائپوں کے سوراخوں اور فرش کے کناروں کے گرد گھومتی رہتی ہیں۔ ان کا کام اپنے اردگرد کے ہر حصے کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔اس مقصد کے لیے ان کا سب سے اہم آلہ ان کے اینٹینا ہوتے ہیں۔ مائیکرو بائیولوجی کی دنیا میں چیونٹیوں کو ایسے جاندار سمجھا جاتا ہے جو ایک منفرد کیمیائی دنیا میں زندگی گزارتی ہیں۔سائنسدانوں کے لیے معمہ بننے والی وہ مچھلیاں جو ایک لاکھ سال سے سیکس کے بغیر اپنی نسل بڑھا رہی ہیں
لاکھوں سال پہلے سانپ کیسے چلتے تھے اور وہ ٹانگوں سے کیسے محروم ہوئے
تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ چیونٹیوں میں سونگھنے کی حس زیادہ ہوتی ہے۔ سادہ الفاظ میں کہا جائے تو کسی چیونٹی کے لیے باورچی خانہ کوئی خالی جگہ نہیں ہوتا۔ اس کے لیے یہ لا تعداد کیمیائی اشاروں سے بھرا ماحول ہوتا ہے جو ہمیں دکھائی نہیں دیتے۔چیونٹیوں کی تلاش کا عمل اسی وقت سے شروع ہو جاتا ہے جب باورچی خانے میں ان کا واسطہ شیرے کے قطرات، گڑ کے ذرات، دودھ سے بنی مٹھائیوں کے ٹکڑوں، چائے کے گرے ہوئے قطروں، چمچ پر لگے گھی یا سنک کے گرد موجود نمی سے پڑتا ہے۔خوراک کو کیمیائی طور پر نشان زد کرنے کے بعد چیونٹیاں اپنے گھر واپس جانے والے راستے کو بھی نشان زد کرتی رہتی ہیں۔
2021 میں ڈاکٹر وسیم جلیل کی سربراہی میں چیونٹیوں پر کی گئی ایک تحقیق کے نتائج نیشنل لائبریری آف میڈیسن میں شائع ہوئے۔اس تحقیق میں چیونٹیوں کی میٹھا کھانے کی عادات اور ان کے اینٹینا اور اگلی ٹانگوں پر موجود ذائقہ محسوس کرنے والے رِیسیپٹرز کے درمیان تعلق سامنے آیا۔ تحقیق کے مطابق ان رِیسیپٹرز کی مدد سے چیونٹیاں صرف چھو کر یہ معلوم کر سکتی ہیں کہ سامنے موجود چیز میٹھی ہے یا نہیں۔اسی لیے کسی کونے میں پڑا مٹھائی کا نہایت چھوٹا ٹکڑا، چائے یا میٹھے مشروب کا خشک ہو چکا داغ بھی چیونٹیوں کے لیے خوراک کی موجودگی کا اہم اشارہ بن جاتا ہے۔ماہرین ذائقہ محسوس کرنے والے ان رِیسیپٹرز کو فطری ’سرچ انجن‘ قرار دیتے ہیں۔ تاہم جیسا کہ ہم نے دیکھا، خوراک کی تلاش میں نکلنے والی چیونٹیاں صرف خوراک ڈھونڈ کر خود کھا کر واپس نہیں چلی جاتیں۔خوراک تلاش کرنے والی چیونٹی کے چھوڑے ہوئے کیمیائی اشاروں کو دوسری چیونٹیاں اپنے اینٹینا کے ذریعے محسوس کرتی ہیں اور انھی کی مدد سے خوراک تک پہنچ جاتی ہیں۔
امریکی محکمہ زراعت کی زرعی تحقیقاتی سروس کے مطابق چیونٹیاں فیرومونز کی مدد سے خوراک تک جانے والے راستے کو نشان زد کرتی ہیں۔یعنی جو چیونٹی سب سے پہلے خوراک دریافت کرتی ہے، وہ اپنے گھر واپس جاتے ہوئے راستے میں کیمیائی نشان چھوڑتی جاتی ہے تاکہ دوسری چیونٹیاں بھی اسی راستے پر چلتے ہوئے آسانی سے خوراک تک پہنچ سکیں2009 میں شائع ہونے والی ای ڈیوڈ مورگن کی تحقیق میں اس عمل کی تفصیل بیان کی گئی۔ان کے مطابق ’جب خوراک کی تلاش میں نکلی کوئی چیونٹی کھانا ڈھونڈ لیتی ہے تو واپسی کے راستے میں فیرومونز کی ایک لکیر چھوڑتی جاتی ہے۔ بعد میں یہی فیرومونز اس کے لیے اور اس کی کالونی کی دوسری چیونٹیوں کے لیے گوگل میپس کی طرح کام کرتے ہیں اور انھیں خوراک تک پہنچنے کا راستہ دکھاتے ہیں۔‘اسی طرح چند ہی منٹوں میں ایک چیونٹی یا چیونٹیوں کا چھوٹا سا گروہ خوراک کا ذریعہ تلاش کر لیتا ہے۔ پھر وہ کیمیائی نشانات کا ایک راستہ بنا دیتی ہیں جس کی پیروی کرتے ہوئے دوسری چیونٹیاں بھی وہاں پہنچ جاتی ہیں اور مل کر خوراک کو اپنے گھر لے جانے لگتی ہیں۔اس پورے عمل میں چیونٹیوں کے اینٹینا بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ گوا میں قائم ارنیا انوائرنمنٹل ریسرچ سینٹر کے ماہرِ حشرات ڈاکٹر پرونئے بیتھیا کے مطابق جن چیونٹیوں کے اینٹینا متاثر ہو جائیں، ان کے لیے زندہ رہنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔وہ کہتے ہیں: ’چیونٹیوں کا باہمی رابطہ کیمیا پر مبنی ہے۔ وہ اپنے جسم سے فیرومونز نامی کیمیائی مادے خارج کرتی ہیں۔ انھی اشاروں کی مدد سے وہ اپنے ماحول کو سمجھتی ہیں، خوراک تلاش کرتی ہیں، ایک دوسرے سے رابطہ کرتی ہیں اور اپنی کالونی کی دوسری چیونٹیوں کو پہچانتی ہیں۔‘جی پی ایس کی طرح چیونٹیاں اپنے اینٹینا کے ذریعے ان کیمیائی اشاروں کا پتا لگاتی ہیں اور دوسری چیونٹیوں کے متعین کردہ راستوں کی پیروی کرتی ہیں۔
مثال کے طور پر، اگر خوراک تلاش کرنے والی کسی چیونٹی کو کھانے کا ایسا بڑا ذخیرہ مل جائے جسے وہ اکیلے نہیں اٹھا سکتی تو وہ اس مقام کو اپنے فیرومونز سے نشان زد کر دیتی ہے۔ یعنی وہ اس جگہ سے اپنے گھر تک جاتے ہوئے مسلسل فیرومونز خارج کرتی رہتی ہے۔یہ فیرومونز راستہ بتانے والے نظام گلوبل پوزیشننگ سسٹم (جی پی ایس) کی طرح کام کرتے ہیں اور کالونی کی دوسری چیونٹیوں کو خوراک کی جگہ تک پہنچنے کا اشارہ دیتے ہیں۔1993 میں ماہرِ حشرات رولف بیکرز اور ان کی ٹیم کی جانب سے جرنل آف انسیکٹ بیہیویئر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق چیونٹیوں کے چھوڑے گئے یہ کیمیائی راستے تقریباً 47 منٹ تک مؤثر رہتے ہیں تحقیق کے مطابق یہ وقت کالونی کی دوسری مزدور چیونٹیوں کے جمع ہونے، خوراک تک پہنچنے اور اسے اپنے قبضے میں لینے کے لیے کافی ہوتا ہے۔چیونٹیوں کے لیے اینٹینا صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنے اردگرد کے ماحول، سمت اور خطرات کو محسوس کرنے کا بنیادی وسیلہ بھی ہیں۔ وہ انھی کے ذریعے کیمیائی اشاروں اور ان کے ذریعے بھیجے جانے والے پیغامات کو پڑھتی ہیں۔ڈاکٹر پرونوئے کے مطابق اگر چیونٹیاں اپنے اینٹینا کھو دیں تو وہ سمت اور راستہ پہچاننے، اپنی ساتھی چیونٹیوں سے رابطہ کرنے اور ارد گرد کے خطرات کو محسوس کرنے کی صلاحیت بھی کھو دیتی ہیں۔
وہ چیونٹیاں جو اپنی ساتھی کی جان بچانے کے لیے اس کی ٹانگ کاٹ دیتی ہیں
ٹیسٹ ٹیوبز اور ٹشو رولز میں چھپا کر دو ہزار ’ملکہ‘ چیونٹیوں کو سمگل کرنے کی کوشش
سنگاپور میں چیونٹیاں پالنے کے شوقین
اگر تمام کیڑے مکوڑے مر جائیں تو کیا ہو گا؟
کرۂ ارض سے حشرات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں