صرف مادہ مچھر انسانوں کو کاٹتی ہیں۔ وہ ہمارے خون میں موجود اس پروٹین کو حاصل کرنے کے لیے ہماری طرف متوجہ ہوتی ہیں جو ان کے انڈوں کی نشوونما کے لیے ضروری ہوتا ہے۔میں مچھروں کے لیے ایک مقناطیس کی طرح ہوں۔گرمیوں کی چھٹیوں میں دنیا کے کسی بھی حصے میں چلا جاؤں، ایک بات تو یقینی ہوتی ہے: مجھے مچھر لازماً کاٹیں گے اور اس سے مجھے بڑے بڑے، خارش والے ابھار ہو جاتے ہیں جو کئی ہفتوں تک مجھے پریشان رکھتے ہیں۔دوسری طرف میرے ساتھ موجود دیگر لوگوں کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ انھیں ایک بھی مچھر نہیں کاٹتا اور جنھیں مچھر کاٹتے بھی ہیں، ان کے جسم پر اکثر صرف ایک چھوٹا سا سرخ نشان رہ جاتا ہے۔ میرے دوست کافی عرصے سے مذاق میں کہتے آئے ہیں کہ میرا خون یقیناً ’غیر معمولی حد تک میٹھا‘ ہوگا۔اور وہ شاید درست کہتے ہیں۔ ہمارا جسم سانس اور جسم کی بو جیسے بہت سے حیاتیاتی اشاریے خارج کرتا ہے جو یہ طے کرتے ہیں کہ کسی شخص کو مچھر کے کاٹنے کا امکان کتنا ہے۔ بعض لوگوں میں یہ اشاریے اس قدر طاقتور ہوتے ہیں کہ مچھر ان کو چاہ کر بھی نہیں چھوڑ پاتے۔یہ تین طریقے ہیں جن سے یہ خون چوسنے والے آپ کا سراغ لگا سکتے ہیں۔
کاربن ڈائی آکسائیڈ مچھروں کو اشارہ دیتی ہے کہ آپ کاٹے جانے کے لیے موزوں ہیں
صرف مادہ مچھر انسانوں کو کاٹتی ہیں۔ وہ ہمارے خون میں موجود اس پروٹین کو حاصل کرنے کے لیے ہماری طرف متوجہ ہوتی ہیں جو ان کے انڈوں کی نشوونما کے لیے ضروری ہوتا ہے۔وہ تقریباً 10 میٹر (33 فٹ) کے فاصلے سے اپنے ہدف کی شناخت کے لیے یعنی نظر اور بو کا استعمال کرتی ہیں۔ان میں ہماری سانس کے ذریعے خارج ہونی والی کاربن ڈائی آکسائیڈ(سی او ٹو) بھی شامل ہوتی ہے۔عام طور پر حاملہ خواتین زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتی ہیں اور ان کے جسم کا درجہ حرارت بھی زیادہ ہوتا ہے۔ یہ دونوں خصوصیات مچھروں کو متوجہ کرتی ہیں۔ہماری سانسیں سے مچھروں کو کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اشارے ملتے ہیں جو ان کے اندر شکار کی تلاش کے رویے کو فعال کر دیتا ہے۔ بچوں کے مقابلے میں مچھر بالغ انسانوں کو زیادہ نشانہ بناتے ہیں کیونکہ وہ زیادہ سی او ٹو پیدا کرتے ہیں۔لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مچھر غیر انسانی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ذرائع کی طرف بھی متوجہ ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ خشک برف اور بوتل بندکاربن ڈائی آکسائیڈ مچھروں کو پکڑنے کے لیے مفید اوزار ہیں۔تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ مچھر حرارت اور نمی کی طرف بھی متوجہ ہوتے ہیں اور یہ کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ حرارت کی جانب اس کشش کو مزید بڑھاتی ہے۔اسی لیے غیر حاملہ خواتین کے مقابلے میں مچھر حاملہ خواتین کی جانب دگنا متوجہ ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حمل کے دوران جسم کی میٹابولک ضروریات اور سانس لینے کے حجم میں اضافہ ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں جسم زیادہ حرارت اور کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتا ہے۔برطانیہ کی درہم یونورسٹی کے شعبۂ صحتِ عامہ کے ماہرِ حشرات سٹیو لنڈسے کہتے ہیں کہ ’آپ کے اندر ایک چھوٹی بھٹی موجود ہوتی ہے؛ آپ زیادہ گرم ہوتے ہیں۔‘ورزش کرنے والے افراد بھی عارضی طور پر مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش ہو سکتے ہیں خاص طور پر ورزش کے دوران اور اس کے فوراً بعد کیونکہ اس دوران جسم کی میٹابولک ضرورت بڑھ جاتی ہیں جس کی وجہ سے جسم میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں جسم زیادہ گرم ہوتا ہے اور پسینہ بھی زیادہ آتا ہے۔بڑی جسامت والے افراد عموماً زیادہ حرارت پیدا کرتے ہیں اور زیادہ سی او ٹو کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں جس کی وجہ سے مچھر ان کی طرف زیادہ متوجہ ہو سکتے ہیں۔جب مچھر کسی شخص کے قریب پہنچ جاتے ہیں (اور 10 میٹر سے بھی کم فاصلے پر ہوتے ہیں) تو وہ انسان کی جلد اور سانس کی بو سمیت مختلف اشاروں کی مدد سے اپنے شکار کو پہچانتے ہیں۔لنڈسے کہتے ہیں کہ بنیادی طور آپ کی بو جو طے کرتی ہے کہ مچھر آپ کو کتنا کاٹے گا۔ ’انتہائی چھوٹے اور بہت جلد بخارات بن جانے والے کیمیائی مادے فرق پیدا کرتے ہیں۔ مچھر کیمیائی دنیا میں رہتے ہیں۔‘دنیا بھر میں مچھروں کی 3,500 سے زیادہ اقسام پائی جاتی ہیں۔دیگر سائنس دانوں کے ساتھ مل کر لنڈسے نے اس تصور کو غلط ثابت کیا ہے کہ مچھر ‘میٹھے خون’ والے افراد کو زیادہ کاٹتے ہیں۔ ان کی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ مچھر ہماری جلد کی منفرد خوشبو کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔جلد کا مائیکرو بایوم جلد پر موجود کاربوہائیڈریٹس، فیٹی ایسڈز اور پیپٹائیڈز کو غیر مستحکم نامیاتی مرکبات (وی او سی) میں تبدیل کر سکتا ہے۔ یہ مرکبات آسانی سے فضا میں تحلیل ہو جاتے ہیں اور مچھر ان میں فرق کر سکتے ہیں۔ہماری جلد میں 500 سے زیادہ وی او سی پائے جاتے ہیں۔مچھر پہلے ہی ہماری جلد پر موجود امونیا اور لیکٹک ایسڈ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، اور کاربوکسلک ایسڈز کی موجودگی اس کشش کو مزید بڑھا دیتی ہے۔امریکہ کی روک فیلر یونیورسٹی کے محققین نے 64 افراد کی جلد کی بو کا تجزیہ کیا جنھوں نے چھ گھنٹے تک نائیلون کی آستینیں پہنی تھیں۔مچھر ان نائیلون کی آستینوں میں موجود انسانی جسم کی بو کو پہچان سکتے تھے اور انھوں نے واضح طور پر ان افراد کی بو کو ترجیح دی جن کی جلد میں کاربوکسلک ایسڈز کی مقدار زیادہ تھی۔محققین نے ہر فرد کے لیے کشش کا ایک سکور تیار کیا اور معلوم ہوا کہ سب سے زیادہ سکور سب سے کم سکور سے 100 گنا زیادہ تھا۔ طرزِ زندگی میں تبدیلیوں کے باوجود یہ فرق برسوں تک برقرار رہے۔لنڈسے کہتے ہیں کہمچھ آپ کی طرف کتنی کشش محسوس کرتے ہیں، اس میں زیادہ تبدیلی نہیں آتی۔




