جولائی 1, 2026

ڈیجیٹل ہراسمنٹ نوجوانوں کیلیے سنگین خطرہ، اصل وجہ کیا ہے؟

کراچی : ڈیجیٹل ہراسمنٹ (جسے سائبر ہراسانی یا آن لائن بُلنگ بھی کہا جاتا ہے) سے مراد انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، ای میل یا موبائل فون کے ذریعے کسی شخص کو ڈرانا، دھمکانا، یا ذہنی اذیت دینا کہلاتی ہے
اس حوالے سے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر نفسیات ڈاکٹر نبیحہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں تصاویر اور ویڈیوز کے غلط استعمال کے امکانات بڑھ گئے ہیں، جس کے باعث نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے استعمال میں غیر معمولی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نجی تصاویر، ویڈیوز یا ذاتی معلومات کا غیر مجاز استعمال بھی ہراسمنٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ ہراسمنٹ صرف جسمانی نہیں بلکہ زبانی اور ڈیجیٹل صورتوں میں بھی سامنے آتی ہے، جس کے اثرات متاثرہ افراد کی ذہنی صحت پر گہرے نقوش چھوڑتے ہیں۔اس کے علاوہ کسی شخص کا مسلسل تعاقب کرنا، گھورنا، تضحیک آمیز تبصرے کرنا، ذاتی تصاویر یا ویڈیوز کو وائرل کرنا، دھمکی آمیز پیغامات بھیجنا یا بلیک میلنگ کرنا ہراسمنٹ کی مختلف شکلیں ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی ہراسمنٹ نوجوانوں، بالخصوص طالبات اور خواتین کے لیے ایک سنگین سماجی اور نفسیاتی مسئلہ بنتی جا رہی ہے جس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر نبیحہ نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ بیٹیوں اور بیٹوں دونوں کی تعلیم اور تربیت پر خصوصی توجہ دیں اور انہیں ذاتی حدود، آن لائن تحفظ اور دوسروں کے احترام کے بارے میں لازمی آگاہ کریں۔ ہراسمنٹ کا شکار افراد کو خاموش رہنے کے بجائے اپنے اہلِ خانہ، قابلِ اعتماد افراد یا متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کرنا چاہیے۔