جولائی 1, 2026

رنگ گورا رہے یا کالا، تیز دھوپ ڈیمنشیا کا خطرہ کم کر سکتی ہے

محققین نے انکشاف کیا ہے کہ رنگ گورا رہے یا کالا، تیز دھوپ ڈیمنشیا کا خطرہ کم کر سکتی ہے۔ ڈیمنشیا یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو متاثر کرنے والی دماغی بیماری ہے۔یہ تحقیق چین کی گوانگزو میڈیکل یونیورسٹی کے محققین نے کی ہے، جس میں برطانیہ کے ’یو کے بائیو بینک‘ کے 87,577 بالغ افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ شرکا کو اوسطاً 8.1 سال تک فالو کیا گیا، انھوں نے اپنی کلائیوں پر ایکسلیرومیٹر پہن رکھے تھے، اس دوران 741 افراد میں ڈیمنشیا کی تشخیص ہوئی۔محققین نے پایا کہ کم روشنی یا کمروں میں رہنے والے ڈیمنشیا کا زیادہ نشانہ بنتے ہیں، محققین کے مطابق دن کی قدرتی روشنی جسم کی سرکیڈین ردھم (Circadian Rhythm) یا حیاتیاتی گھڑی کو منظم رکھتی ہے، نیند کے معیار کو بہتر بناتی ہے، اور دماغی صحت برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔دماغ کی ساخت میں حفاظتی تبدیلیوں سے بھی اس کا تعلق دیکھا گیا، اگرچہ اس پہلو پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔تحقیق کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ قدرتی دن کی روشنی فائدہ مند ہے۔ جلد کا رنگ گورا ہو یا سانولا، دونوں افراد کو روشنی سے فائدہ ہو سکتا ہے، البتہ گہری رنگت والے افراد میں وٹامن ڈی بننے کے لیے نسبتاً زیادہ دھوپ درکار ہو سکتی ہے۔ اس تحقیق کا مرکز وٹامن ڈی نہیں بلکہ دن کی روشنی اور دماغی صحت کا تعلق تھا۔محققین نے یہ نہیں کہا کہ شدید دھوپ میں طویل وقت گزارا جائے، انھوں نے صرف یہ پایا کہ دن کے وقت مناسب قدرتی روشنی میں رہنے والوں میں ڈیمنشیا کا خطرہ کم تھا۔ بہت زیادہ الٹرا وائلٹ (UV) شعاعیں جلد کے کینسر اور دیگر مسائل کا خطرہ بھی بڑھا سکتی ہیں، اس لیے اعتدال ضروری ہے۔