اسلام آباد:محرم الحرام کی مناسبت سے اسلامی نظریاتی کونسل نے فرقہ واریت اور انتہا پسندی کے خلاف متفقہ اعلامیہ جاری کردیا۔اسلامی نظریاتی کونسل نے متفقہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے پیغامِ پاکستان کی روشنی میں فرقہ واریت، نفرت انگیزی اور انتہاپسندی کے خلاف دوٹوک مؤقف اختیار کر لیا ہے۔اس حوالے سے جاری کیے گئے اعلامیے میں اتحادِ امت، رواداری اور قومی یکجہتی کے فروغ پر زور دیتے ہوئے فرقہ واریت، نفرت انگیز رویوں اور انتہاپسندانہ سوچ کو مسترد کر دیا گیا۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کسی فرد یا گروہ کے خلاف تشدد، اشتعال انگیزی اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے واضح کیا کہ اسلام امن، برداشت اور احترامِ انسانیت کا دین ہے، جبکہ تمام مکاتبِ فکر کے احترام اور باہمی رواداری کو قومی ضرورت قرار دیا گیا ہے۔کونسل نے ملکی سلامتی، آئین اور قانون کی پاسداری کو ہر شہری کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے معاشرے میں نفرت آمیز تقاریر اور اشتعال انگیز بیانیے کی حوصلہ شکنی پر زور دیا۔اعلامیے میں نوجوان نسل کو اعتدال، اخلاقیات اور قومی اقدار اپنانے کی تلقین کی گئی اور پیغامِ پاکستان کے بیانیے کے تحت امن، استحکام اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔اعلامیے میں اختلافِ رائے کو شائستگی، مکالمے اور آئینی دائرے میں رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان میں امن، اتحاد اور برداشت ہی قومی ترقی کی ضمانت ہے۔سالانہ قومی بین المسالک ہم آہنگی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کہا کہ کانفرنس نے محرم الحرام کے حوالے سے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا ہے۔ کانفرنس کے اعلامیے میں صحابہ کرامؓ، امہات المؤمنینؓ اور اہل بیت عظامؓ کی توہین کو گناہِ کبیرہ قرار دیا گیا جبکہ کسی بھی فرقے کی تکفیر کو بھی گناہِ کبیرہ قرار دیا گیا ہے۔سردار یوسف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان نے نہ صرف اپنے اندر امن قائم کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی امن کے قیام میں کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کے بعد عالمی سطح پر معرکہ امن بھی پاکستان نے جیتا ہے۔ وفاقی وزیر نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں شخصیات نے پاکستان کو عالمی سطح پر نیک نامی دلائی ہے۔




