فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ ٹورنامنٹ کا آغاز ایسے میزبان ملک میں ہوا جو شریک ٹیم کے ساتھ جنگی صورتحال سے دوچار تھا۔ایران کو فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی بمباری مہم کے بعد مسلسل خدشات لاحق رہے کہ وہ ورلڈ کپ میں شرکت کر پائے گا یا نہیں۔ویزا مسائل کے باعث ایرانی ٹیم کو اپنی تیاریوں کا مقام امریکا سے تبدیل کرکے میکسیکو منتقل کرنا پڑا جبکہ ٹیم کے 11 سپورٹ اسٹاف ممبران کو امریکا میں داخلے کی اجازت بھی نہ مل سکی۔تاہم تمام خدشات اور مسائل کے باوجود ایران نے اپنے افتتاحی میچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے مقابلہ 2-2 گول سے برابر کردیا۔میچ کے دوران ایرانی شائقین کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے ٹیم کی بھرپور حمایت کی۔نیوزی لینڈ نے ساتویں منٹ میں کرس ووڈ اور ایلیجا جسٹ کی مشترکہ کوشش سے برتری حاصل کی۔ ایران نے 32ویں منٹ میں رضا ریضائیان کے گول سے مقابلہ برابر کر دیا۔دوسرے ہاف میں جسٹ نے دوبارہ نیوزی لینڈ کو برتری دلا دی لیکن محمد محبی کے ہیڈر نے ایران کو ایک بارپھر خسارے سے نکال دیا۔دونوں ٹیموں نے جیت کے لیے بھرپور کوششیں کیں تاہم مقابلہ برابری پر ختم ہوگیا۔




