اپریل 27, 2026

’ایگ کافی‘ کا نیا ٹرینڈ، ماہرین صحت نے سنگین خطرات سے خبردار کر دیا

انٹرنیٹ پر اس وقت ’انڈے والی کافی‘ کا نیا رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے جسے ’ویتنامی ایگ کافی‘ بھی کہا جاتا ہے، یہ ایک جھاگ دار اور کریمی مشروب ہے جس میں کافی کو انڈے کی زردی اور میٹھے دودھ کے ساتھ ملا کر بنایا جاتا ہے۔رپورٹس کے مطابق ایگ کافی بنانے کے لیے پہلے خالص اور سادہ کافی تیار کی جاتی ہے، پھر ایک تازہ انڈے کی زردی کو میٹھے گاڑھے دودھ اور تھوڑی چینی یا شہد کے ساتھ اچھی طرح پھینٹا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ یکجان اور جھاگ دار ہو جائے، بعد ازاں گرم کافی کے اوپر یہ جھاگ ڈال کر بنایا جاتا ہے۔اس کافی سے متعلق ماہرِ غذائیت کا کہنا ہے کہ یہ مشروب بظاہر مزیدار اور پرکشش لگتا ہے لیکن اس کے باقاعدہ استعمال سے صحت کو کئی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

اہم صحت کے خطرات:

1۔ غذائی بیماریوں کا خطرہ
کچے یا نیم پکے ہوئے انڈے کی زردی سے انسانی جسم میں سالمونیلا نامی بیکٹیریا منتقل ہو سکتا ہے جو قے، دست اور بخار کا باعث بنتا ہے۔اس کے استعمال کے سبب کمزور مدافعتی نظام والے افراد، حاملہ خواتین، بچے اور بزرگ زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔یہ حالت شدید پانی کی کمی اور بعض اوقات خطرناک پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔

2۔ زیادہ چینی اور کیلوریز
اس مشروب میں میٹھے گاڑھے دودھ اور چینی کی زیادہ مقدار شامل ہوتی ہے جس سے کیلوریز بڑھ جاتی ہیں، اس کے نتیجے میں وزن میں اضافہ اور وقت کے ساتھ ساتھ میٹابولک بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

3۔ کولیسٹرول کے مسائل

انڈے کی زردی میں کولیسٹرول زیادہ ہوتا ہے، دل کے مریضوں، ذیابیطس کا شکار افراد اور ہائی کولیسٹرول والے لوگوں کو اس کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔

4۔ نظامِ ہاضمہ کے مسائل
کچھ افراد کو کچے انڈے ہضم کرنے میں مشکل پیش آتی ہے جس سے متلی، پیٹ میں گیس اور بدہضمی ہو سکتی ہے جبکہ تیزابیت کے مریضوں کے لیے یہ مشروب مزید تکلیف کا باعث بن سکتا ہے۔

5۔ کیفین کے اثرات
غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ کافی پینے سے دل کی دھڑکن تیز، نیند میں کمی اور بے چینی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ مشروب کبھی کبھار استعمال کیا جا سکتا ہے مگر روزانہ اس کے استعمال سے گریز ضروری ہے، اگر اسے پینا چاہتے ہیں تو پیسچورائزڈ انڈوں، کم چینی اور کافی کی محدود مقدار کے ساتھ اسے بنا کر پینا محفوظ ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔