اپریل 27, 2026

بحری قزاقوں کی قید میں موجود پاکستانی لاوارث نہیں، رہائی کے اقدامات کر رہے ہیں، گورنر سندھ

کراچی:گورنر سندھ نہال ہاشمی کا کہنا ہے کہ پاکستانی صومالی بحری قزاقوں کی قید میں ہیں لیکن وہ لاوارث نہیں ہیں، حکومت پاکستان ان کے اہلخانہ کی دیکھ بحال کرے گی۔خلیج عدن میں آئل ٹینکر پر صومالی بحری قذاقوں کا قبضہ اور 11 پاکستانیوں کو قید کرنے کے واقعے پر اہلِ خانہ کے ہمراہ گورنر ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی گورنر نے کہا کہ صومالیہ میں بحری قزاقوں کی قید میں پھنسے افراد کے اہلخانہ گورنر ہاؤس آئے ہیں، میرے علم میں یہ بات آئی کہ بحری قزاقوں نے جہاز کو اغواء کر لیا ہے اور ان لوگوں نے پاکستانیوں کو بھی یرغمال بنا لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میری وزیر بحری امور اور سیکرٹری خارجہ سے بھی بات ہوئی ہے، ہماری ایمبیسی ان سے مکمل رابطے میں ہے اور ان کو اختیار دے دیا ہے کہ وہ رہائی کے اقدامات کریں، یورپی یونین کی تنظیموں سے رابط کیا گیا ہے اور اس معاملے پر خاموشی نہیں بلکہ کام کیا جا رہا ہے۔نہال ہاشمی نے کہا کہ جہاز صومالیہ کا تھا اور جہاز کا کپتان انڈونیشیائی ہے، پاکستان اپنے شہریوں کی رہائی کے لیے اقدامات کر رہا ہے اور مثبت ڈویلپمنٹ ہو رہی ہے۔ بحری قزاقوں کے قبضے میں پاکستانیوں نے اہل خانہ سے رابط بھی کیا ہے۔گورنر سندھ نے کہا کہ بحری قزاقی کا معاملہ ان کا ذاتی معاملہ ہے کیوںکہ جہاز کا مالک بھی صومالین ہے اور جہاز تیل لیکر صومالیہ ہی جا رہا تھا، صومالیہ کی صورت حال اچھی نہیں ہے۔اس موقع پر متاثرین کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ ہماری آخری بات جمعے کے دن ہوئی، وہ لوگ بہت تکلیف میں ہے اور کھانے کو بھی کچھ نہیں، قزاقوں کے پاس جدید اسلحہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم گورنر ہاؤس آئے ہیں انہوں نے ہمیں امید دلائی ہے، گورنر نے ہمیں یقین دلایا کہ وہ کوشش کریں گے، جب تک ہمارے پیارے وطن واپس نہیں آجاتے چین نہیں آئے گا، ہمیں تو یقین چاہیے کہ ہمارے پیارے واپس آئیں گے۔گورنر ہاؤس میں واقعہ بتاتے ہوئے متاثرین میں سے ایک خاتون رو پڑی۔