دنیا بھر میں لاکھوں افراد ہائپر ٹینشن یعنی بائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں، جو جسم کے مختلف اعضاء پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ایسے مریضوں کو باقاعدہ یورین ٹیسٹ کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ گردوں کے نقصان کی ابتدائی علامات ظاہر کرنے میں مدد دیتے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک بلند فشارِ خون گردوں کی باریک خون کی نالیوں کو خاموشی سے متاثر کرتا ہے، جس سے خون کو صاف کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔کلینیکل فارماسسٹ کے مطابق گردے جسم کا قدرتی فلٹریشن سسٹم ہوتے ہیں جو فاضل پانی اور مضر مادوں کو خارج کرتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جب خون کی نالیاں متاثر ہوتی ہیں تو یہ عمل کمزور ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں اہم اجزاء یورین میں خارج ہونے لگتے ہیں جبکہ نقصان دہ مادے جسم میں ہی رہ جاتے ہیں۔تشخیص کے لیے ایک اہم پیمانہ البومن ٹو کریٹنین ریشو (ACR) ہے، عام حالات میں پروٹین البومن کی مقدار یورین میں نہایت کم ہوتی ہے، تاہم اس کی زیادہ مقدار گردوں کی خرابی کی نشاندہی کر سکتی ہے، کریٹنین کو بطور حوالہ استعمال کرتے ہوئے دیگر مادوں کی مقدار کا درست اندازہ لگایا جاتا ہے۔ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ بلند فشارِ خون کی تشخیص کے فوراً بعد البومن ٹو کریٹنین ریشو (ACR) ٹیسٹ کروایا جائے اور اس کے بعد سال میں کم از کم ایک بار اسے دہرایا جائے، خاص طور پر ان افراد میں جنہیں زیادہ خطرہ لاحق ہو۔طبی ماہرین کے مطابق گردوں کی بیماری ابتدائی مراحل میں بغیر علامات کے شروع ہوتی ہے، تاہم بر وقت تشخیص اور علاج سے اس کی شدت کو کم کیا جا سکتا ہے اور پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔مزید برآں! یورین کے ٹیسٹ ادویات کے استعمال، ذیابیطس، انفیکشن، نمکیات کی غیر معمولی سطح اور دیگر وجوہات کی نشاندہی میں بھی مدد دیتے ہیں، اسی لیے انہیں بائی بلڈ پریشر اور گردوں کی صحت کی طویل مدتی نگرانی کا اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔




