جون 5, 2026

کھانے پکانے کا وہ تیل جس کا استعمال موٹاپے کا شکار بناسکتا ہے

دنیا بھر میں کافی زیادہ استعمال کیے جانے والا کھانا پکانے کا تیل موٹاپے کا شکار بنا سکتا ہے۔امریکا کی کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ سویا بین آئل جسمانی وزن میں اضافے کا عمل متحرک کرتا ہے۔تحقیق کے دوران چوہوں پر مختلف اقسام کی چکنائی سے جسمانی وزن میں اضافے اور میٹابولزم پر اثرات کی جانچ پڑتال کی گئی۔تحقیق کے نتائج میں عندیہ دیا گیا کہ سویا بین آئل موٹاپے کا شکار بنانے میں ممکنہ طور پر براہ راست کردار ادا کرتا ہے۔اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ آپ کا جسم اس تیل میں موجود linoleic acid (اومیگا 6 فیٹی ایسڈ کی ایک قسم) کو پراسیس کرتا ہے۔تحقیق کے دوران چوہوں کو سویا بین آئل سے تیار کردہ غذاؤں کا استعمال کرایا گیا اور دیکھا گیا کہ ان کے جسم کیسے اس چکنائی کو ہضم کرتے ہیں۔تحقیق کے مطابق جسم کا حصہ بننے کے بعد linoleic acid ایک مالیکیول oxylipins میں تبدیل ہو جاتا ہے۔سویابین آئل کے زیادہ استعمال سے اس مالیکیول کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ مالیکیول جسمانی وزن بڑھنے اور جگر میں چربی جمع ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔تحقیق میں ایسے چوہوں کو بھی شامل کیا گیا جن کے جینز کو تبدیل کیا گیا تھا اور ان کے جسمانی وزن میں اسی غذا کے استعمال سے کم اضافہ ہوا۔ان چوہوں کے جگر کے پروٹین کو کچھ تبدیل کیا گیا تھا جس کے باعث ان کے جسموں نے linoleic acid کو مختلف انداز سے پراسیس کیا۔اس طرح مالیکیول کی سطح میں کم اضافہ ہوا اور جسمانی وزن میں کم اضافہ ہوا۔محققین کے مطابق یہ پہلا قدم ہے جس سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ آخر کچھ افراد کا جسمانی وزن دیگر کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے بڑھ جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سویابین آئل بذات خود برا نہیں، مگر اس کی زیادہ مقدار کا استعمال ایسے عمل متحرک کرتا ہے جس کو جسم قابو نہیں کرپاتا۔اس حوالے سے انسانوں پر تحقیق ہونا باقی ہے مگر نتائج سے تصدیق ہوتی ہے کہ لوگ کھانا پکانے کے لیے جس تیل کا انتخاب کرتے ہیں، وہ ان کے جسمانی وزن پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔جسمانی وزن کو مستحکم رکھنے کے لیے زیتون یا ناریل کے تیل کو زیادہ بہتر قرار دیا جاتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج جرنل Lipid Research میں شائع ہوئے۔