اپریل 19, 2026

بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی پر امریکا کا ردعمل سامنے آگیا

امریکا نے مقبوضہ کشمیر میں پہلگام واقعے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے سوال پر کہا ہم مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے پر کوئی پوزیشن نہیں رکھتے تاہم صورتحال کو مسلسل مانیٹر کر رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ٹیمی بروس نے پریس کانفرنس میں مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر حملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا انسانی جانوں کے ضیاع پر ان اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہیں، امید کرتے ہیں اس معاملہ کی تحقیقات کرکے اس کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ دوران میڈیا بریفنگ ترجمان سے صحافی نے سوال کیا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دور میں کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی تھی، کیا امریکا پاکستان بھارت کشیدگی ختم کرانیمیں کردار ادا کرے گا؟ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر صدرٹرمپ،وزیر خارجہ بات کر چکے ہیں، پاک بھارت معاملات کو بہت قریب سے دیکھ رہے، دونوں ممالک کے درمیان صورت حال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے پر کوئی پوزیشن نہیں رکھتے، تاہم مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کر رہے ہیں،روس یوکرین جنگ کے حوالے سے امریکی ترجمان نے بتایا کہ وزیرخارجہ نیکہافریق راضی ہوں تو روس یوکرین جنگ کاخاتمہ ممکن ہے جبکہ صدرٹرمپ نیکہاہے وہ یوکرین روس جنگ کو روکنا چاہتے ہیں۔ ایران سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ایران کیپاس جوہری ہتھیارحاصل کرنیکی صلاحیت ناقابل قبول ہے، ایران کیساتھ مذاکرات کااگلا دور اومان میں ہوگا،ایران کیساتھ اب تک مذاکرات مثبت اورکارآمد ثابت ہوئے ہیں۔ ٹیمی بروس نے مزید کہا کہ امریکا غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کی حمایت کرتا ہے، یہ حمایت تب تک ہیجب تک دہشت گرد امداد سے فائدہ نہ اٹھائیں۔