اکتوبر 10, 2026

ملک میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی خرابی پر پی ٹی اے متحرک

ملک میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی خرابی کی شکایات پر پی ٹی اے متحرک ہو گئی۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل سروسز کے معیار میں بہتری کے لیے ملک بھر میں فیلڈ مانیٹرنگ سروے کیا، جس کے دوران ایک ہفتے میں 115 ٹیلی کام سائٹس کا معائنہ کیا گیا۔ پی ٹی اے کے مطابق 30 ستمبر سے 7 اکتوبر 2026 کے دوران مختلف شہروں میں موبائل آپریٹرز کی سائٹس پر نیٹ ورک کی کارکردگی اور سروسز کا جائزہ لیا گیا۔پی ٹی اے کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق لاہور میں سب سے زیادہ 39 ٹیلی کام سائٹس کا معائنہ کیا گیا، جبکہ کراچی میں 17 اور سکھر میں 16 سائٹس کی جانچ کی گئی۔ اسی طرح ملتان اور راولپنڈی میں 14، 14، کوئٹہ میں 8، ایبٹ آباد میں 4 اور گلگت میں 3 ٹیلی کام سائٹس کا معائنہ کیا گیا۔فیلڈ مانیٹرنگ کے دوران پی ٹی اے کی ٹیموں نے موبائل نیٹ ورک کی مجموعی کارکردگی، کال اور ڈیٹا سروسز کے معیار کا جائزہ لیا۔ اس دوران موبائل نیٹ ورک کی کوریج اور بجلی کی بندش کی صورت میں متبادل انتظامات بھی چیک کیے گئے۔ ٹیموں نے کال نہ ملنے، دوران گفتگو کال منقطع ہونے اور موبائل انٹرنیٹ کی سست رفتار جیسے مسائل کی موقع پر جانچ کی۔پی ٹی اے کے مطابق موبائل سروسز کے معیار کو متاثر کرنے والے عوامل کی نشاندہی کے لیے صارفین کی شکایات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ معائنے کے دوران موبائل سائٹس اور ٹاورز میں تکنیکی خامیوں کی نشاندہی کی گئی، جس کے بعد متعلقہ موبائل آپریٹرز کو اصلاحی اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئیں تاکہ نشاندہی کردہ مسائل کو دور کیا جا سکے۔اتھارٹی نے بتایا کہ موبائل سروسز سے متعلق مسائل کے حل کے لیے مقامی انتظامیہ، منتخب نمائندوں اور متعلقہ کمیونٹی سے بھی رابطے کیے جا رہے ہیں۔ پی ٹی اے کے مطابق جن مختلف علاقوں میں ٹیلی کام سائٹس کا معائنہ کیا گیا، وہاں موبائل سروسز کے معیار میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، جبکہ آپریٹرز کی کارکردگی کی مؤثر نگرانی بھی جاری ہے۔پی ٹی اے نے واضح کیا کہ موبائل سروسز کے معیار اور دستیابی میں مزید بہتری کے لیے ٹیلی کام آپریٹرز کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ اتھارٹی کے مطابق ان تمام اقدامات کا بنیادی مقصد صارفین کو بہتر اور قابل اعتماد ٹیلی کام سروسز کی فراہمی یقینی بنانا ہے، تاکہ موبائل کالز اور انٹرنیٹ سے متعلق صارفین کو درپیش مسائل حل کیے جا سکیں۔