اکتوبر 10, 2026

عمران خان کی قید طویل ہو سکتی ہے، بلاول نے پی ٹی آئی کو خبردار کردیا

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی قید طویل کیوں ہو سکتی ہے؟ اس حوالے سے چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی کو خبردار کردیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تحریک انصاف کو سیاسی حکمت عملی تبدیل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ طرز سیاست برقرار رہا تو عمران خان کی قید مزید طویل ہوسکتی ہے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلاول بھٹو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایسی صورت میں سابق وزیراعظم جیل میں گزارے گئے عرصے کے حوالے سے آصف علی زرداری سے بھی آگے نکل سکتے ہیں۔اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے ملک کی سیاسی روایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اقتدار اور قید کی صورت حال بدلتی رہتی ہے۔ یہاں آج جیل میں موجود سیاست دان کل اقتدار میں بھی آسکتا ہے، تاہم تحریک انصاف کے لیے ضروری ہے کہ وہ انتہا پسندانہ سیاسی رویہ ترک کرے۔ سیاسیتجزیہپیپلز پارٹی کے چیئرمین نے تحریک انصاف کو درپیش تنازعات کی بنیادی وجہ اس کی انتہا پسندی اور سیاسی بائیکاٹ کی روش کو قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی نے اپنا موجودہ سیاسی راستہ تبدیل نہ کیا تو عمران خان قید کی مدت میں سابق صدر آصف علی زرداری کا ریکارڈ بھی پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔خیبرپختونخوا کی سیاسی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے صوبے کے وزیراعلیٰ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کی سیاسی حکمت عملی کو منفی قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ چند روز قبل وفاقی حکومت صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے تیار تھی، تاہم گورنر راج کا نفاذ آخری راستہ ہوگا۔دوسری جانب نئے صوبے کے مطالبے پر بلاول بھٹو زرداری نے متحدہ قومی موومنٹ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے ایم کیو ایم کی سیاسی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جو جماعت یونین کونسل کی ایک نشست بھی حاصل نہیں کرسکتی، وہ الگ صوبہ بنانے کی بات کررہی ہے۔بلاول بھٹو نے وفاقی وزرا مصطفیٰ کمال اور محسن نقوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام شہروں کا دورہ کریں اور براہ راست شہریوں سے معلوم کریں کہ آیا وہ اپنے لیے الگ صوبہ چاہتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے اس معاملے پر عوامی رائے جاننے کی ضرورت پر زور دیا۔