تین ہسپانوی اداروں کی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہپوکیمپس کے مخصوص نیورونز ماضی کی یادوں کو محفوظ رکھتے ہیں، حتیٰ کہ انہی واقعات سے متعلق نئی معلومات بھی دماغ میں محفوظ ہو رہی ہوں۔مثال کے طور پر اپنے محلے میں کسی عمارت کی تعمیر کا تصور کریں۔ انسانی دماغ اس کے تین اہم مراحل کو الگ الگ یاد رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے: تعمیر شروع ہونے سے پہلے کی اصل حالت، تعمیر کا مرحلہ، اور کام مکمل ہونے کے بعد کی حتمی شکل۔ لیکن دماغ ان تینوں یادوں کو آپس میں گڈمڈ ہونے سے کیسے بچاتا ہے؟انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز (جو اسپین کی CSIC اور میگوئل ہرنینڈز یونیورسٹی کے زیرِ انتظام مشترکہ عوامی تحقیقی مرکز ہے) کی نئی تحقیق میں اس اعصابی طریقہ کار کی نشاندہی کر لی ہے۔اس ادارے کی نیورل نیٹ ورک پلاسٹیسٹی لیبارٹری کی ٹیم کے مطابق دماغ ہپوکیمپس کے ایک حصے، یعنی ڈینٹیٹ گائرس (Dentate Gyrus) کو استعمال کرتا ہے، جو نئی یادیں تشکیل دینے کے لیے مخصوص ہے۔یہاں ایک خاص قسم کے نیورون دوسرے خلیوں کی سرگرمی کو روکتا ہے، جس سے دماغ کو نئے تجربات کو موجودہ یادوں کے ساتھ منظم اور مربوط کرنے میں مدد ملتی ہے۔یہ تحقیق جرنل پی ایل او ایس بائیولوجی میں شائع ہوئی ہے۔




