اکتوبر 5, 2026

خلیج سے سپلائی بحال ہوتے ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں کم ہوگئیں

مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں اضافے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔رائٹرز کے مطابق خطے سے خام تیل کی برآمدات بعض دنوں میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے قبل کی سطح سے بھی تجاوز کر گئی ہیں، جس سے عالمی سپلائی کے حوالے سے فوری خدشات میں کمی آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے تقریباً ایک فیصد کمی کے بعد 101.18 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 1.03 فیصد کمی کے ساتھ 90.12 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل میں نمایاں بحالی دیکھی گئی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق خطے سے خام تیل کی یومیہ برآمدات 24 ستمبر اور پھر 27 سے 29 ستمبر کے دوران جنگ سے پہلے کی سطح سے اوپر چلی گئیں۔ رائٹرز کے مطابق یکم اکتوبر تک مشرق وسطیٰ کی اوسط خام تیل برآمدات تقریباً 18.5 ملین بیرل یومیہ تھیں، جبکہ جنگ شروع ہونے سے قبل اوسط تقریباً 18 ملین بیرل یومیہ تھی۔تیل کی قیمتوں پر دباؤ کی ایک اور وجہ جی سیون ممالک کا ہنگامی ذخائر سے مجموعی طور پر 10 کروڑ بیرل خام تیل اور ایندھن جاری کرنے کا فیصلہ ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی منڈی میں اضافی سپلائی فراہم کرنا اور خاص طور پر ڈیزل کی بلند قیمتوں کو قابو کرنے میں مدد دینا ہے۔تاہم ماہرین کے مطابق قیمتوں میں یہ کمی مستقل نہیں بھی ہوسکتی، کیونکہ خلیج اور آبنائے ہرمز کے گرد توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور تیل بردار جہازوں کو اب بھی سیکیورٹی خطرات لاحق ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف متعدد بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے تیل کی عالمی ترسیل کے مستقبل پر خدشات برقرار ہیں۔توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی سپلائی میں بحالی نے فوری طور پر قیمتوں کو کچھ ریلیف دیا ہے، تاہم ٹینکرز کی بلند لاگت، انشورنس اخراجات، محدود ریفائننگ صلاحیت اور خطے میں جاری کشیدگی عالمی تیل مارکیٹ کو اب بھی دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں۔