ستمبر 26, 2026

حرمین شریفین ریڈ لائن ہے، حرمت و سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا ہے کہ حرمین شریفین ہمارے لیے ریڈ لائن ہے، اس کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا جبکہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی رگیں ہیں اور یہ کھلی رہنی چاہئیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 24 کروڑ امن پسند عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے اس ایوان سے چوتھی بار خطاب میرے لیے باعث اعزاز ہے، خلیل الرحمان کو جنرل اسمبلی کا صدر منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور پاکستان کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی متحرک قیادت سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، اینا لینا بائر بوک کا بہترین قیادت پر شکریہ ادا کرتا ہوں، امن کی تلاش انسانیت کی عظیم ترین کاوشوں میں سے ایک ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے قرآن مجید کی سورة الانفال کی آیت نمبر 61 کا حوالہ دیا، ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اور اگر وہ امن کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ۔انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے واضح کیا تھا کہ ہم اقوام متحدہ کے چارٹر کے ساتھ کھڑے ہیں اور دنیا کے امن و استحکام کے لیے مکمل تعاون کریں گے، یہی پاکستان کے اندر اور بیرونی دنیا کے لیے ہمارے اصول کی بنیاد ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2788 قرارداد کی متفقہ منظوری دنیا کے امن کے لیے ہمارے غیرمتزلزل عزم کا اظہار ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے رواں سال فروری میں خلیج اور مشرق وسطیٰ کو جنگ نے اپنی لپیٹ میں لیا، جنگ سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، معیشتوں کو نقصان پہنچا، جنگ سے آبنائے ہرمز جیسی اہم سمندری گزرگاہیں شدید دباؤ میں آ گئیں لیکن اس نازک موڑ پر پاکستان نے فوری اقدامات کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لا کر تاریخی پیش رفت کی، اس تنازع کو ختم کرنے کے لیے کئی تاریخی اقدامات کیے گئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک کاوشوں سے سفارتی کوششوں کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا، نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا کردار بھی قابل تحسین ہے، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، چین اور دیگر دوست ملک کی امن کوششوں پر ممنون ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ افسوس ناک طور پر امن دشمن کارروائیوں سے ایک بار پھر خطرناک اضافہ ہوا ہے، میزائل، ڈرونز اور بندوقوں کے شور کے درمیان سفارت کاری کی آواز کو مزید بلند ہونا چاہیے، آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی شریانیں اور ان کو کھلا رہنا چاہے۔سعودی عرب پر حوثیوں کی جانب سے کیے گئے حالیہ حملوں کی پرزور مذمت کرتے ہیں، مقدس شہر مکہ مکرمہ پر ڈرون حملوں کی کوشش نے دنیا بھر میں مسلمانوں کے اندر غصہ پھیلا دیا، حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی کے لیے کوئی بھی خطرہ ہماری ریڈ لائن ہے، جس کو کسی صورت کراس نہیں کرنے دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مسلمان اس طرح کا گھناؤنا جرم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، پاکستان اپنے برادر سعودی عوام کے ساتھ مکمل یک جہتی کے ساتھ کھڑا ہے جیسا ہم پوری تاریخ میں رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے ہماری کوششوں کا ثبوت برادر ممالک سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ خطے میں دفاع، استحکام اور امن کا مشترکہ عزم ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایک سال قبل پاکستان کو بھارت کی جانب سے بلااشتعال بیرونی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تاہم پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنا حق دفاع استعمال کیا، ہماری بہادر افواج نے بہادری اور پروفیشنلز کے ذریعے جواب دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری بہادر افواج نے دشمن کو خاموش کرایا اور حملے کو ناکام بنا دیا اور ایسا سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھولے گاانہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ روکنے کے لیے بروقت مداخلت کی جس پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازع منصفانہ اور شفاف حل ہونا چاہیے، کشمیری 8 دہائیوں سے حق خود ارادیت کے لیے اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہے ہیں لہٰذا اقوام متحدہ اپنا وعدہ پورا کرے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کئی نسلوں سے غیرقانونی قبضہ، ماورائے قانون گرفتاریوں، ماورائے قانون قتل، جبری گم شدگیاں، جنسی زیادتیاں اور مشترکہ سزائیں جھیل رہے ہیں اور حال ہی میں مقبوضہ کشمیر کی قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے غیرقانونی جغرافیائی تبدیلی اور دیگر غیرقانونی اقدامات کیے گئے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ میں کشمیری عوام کو یقین دلاتا ہوں پاکستان اس وقت تک مکمل سفارتی، سیاسی اور اخلاقی تعاون جاری رکھے گا جب تک انہیں حق خود ارادیت نہیں ملتا، کشمیر ہمیشہ پاکستان کی شہ رگ رہے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں استحکام کی ایک اور بنیاد اب خطرے میں ہے، انڈس واٹر کا مشترکہ نظام اور نہ صرف پاکستان کے عوام کے لیے زندگی کے لیے بلکہ خطے کے لیے جینے کا ذریعے ہے، جس پر قبضےکے لیے بھارت کا یک طرفہ فیصلہ معاہدے کی موجودگی میں کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا یکطرفہ فیصلہ غیرقانونی ہے، بھارت کے یکطرفہ فیصلے کو اقوام متحدہ اور ثالثی عدالت نے بھی مسترد کر دیا ہے، پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا پانی روکنے یا موڑنے کی کوشش کو اعلان جنگ سمجھا جائے گا، بھارت اس حوالے سے غلطی نہ کرے۔وزیراعظم شہباز نے کہا کہ نسلوں سے فلسطینی عوام آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، غزہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو دنیا میں کہیں بھی پیدا ہونے والے بچوں کی طرح جینے کا حق حاصل ہے، اسرائیلی تشدد کا مغربی کنارے تک پھیلنا انتہائی تشویش ناک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس میں نے معصوم فلسطینی لڑکی ہند رجب کی درد انگیز کہانی پیش کی تھی، جنہیں اسرائیلی فوج نے انتہائی بے دردی سے قتل کیا تھا اور اس طرح کی دردناک کہانیاں جاری ہیں اور اس دفعہ 8 سالہ وفا عقیلہ کی شہادت ہوئی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہند رجب اور وفا عقیلہ اور دیگر بے شمار بچوں کی شہادتیں تاریخ میں ہماری مشترکہ خاموشی، ناکامی اور بے حسی کے طور پر یاد رکھی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی زبردستی بے دخلی اسرائیل کے نسل کشی کے ایجنڈے کو ظاہر کرتی ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کا قیام چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔اسرائیل مظالم کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم لبنان اور شام کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کی بھی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی عالمی امن اور سلامتی کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے، پاکستان نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے صف اول کی ریاست کے طور پر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، ہم نے اپنے شہروں اور پہاڑوں میں دہشت گردی کا مقابلہ کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ قیمتی جانوں کی قربانی دی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا اور ہماری مسلح افواج اور بہادر شہریوں کی قربانیوں کی بدولت آج دنیا زیادہ محفوظ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امن پسند دنیا پاکستان کی لازوال قربانیوں کو جھٹلا نہیں سکتی۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین کو ٹی ٹی پی، بی ایل اے، فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان اور بیرونی فنڈنگ سے چلنے والے گروپ دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور پاکستان کے اندر دہشت گردی پھیلا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان ان سرگرمیوں کو روکے اور افغان حکام اپنے عالمی وعدے پورے کرے اور افغان سرزمین کو دوبارہ پاکستان اور دیگر ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے کو یقینی بنائے۔ان کا کہنا تھا کہ افغان عوام کے بنیادی انسانی حقوق اور خاص طور پر خواتین کے حقوق کا ہر صورت احترام کیا جائے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اسلاموفوبیا کا خطرناک اضافہ انتہائی تشویش ناک ہے، مسلمان نفرت انگیزی، امتیازی سلوک، مساجد پر حملے اور قرآن پاک کی بے حرمتی کی جا رہے ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری سرحد پار آر ایس ایس کے ہندو توا نظریہ مذہبی منافرت پھیلا رہا ہے، جس سے فرقہ وارانہ فسادات، مساجد پر حملے اور مذہبی آزادی پر قدغنیں لگائی جا رہی ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بھارت کے شہر سہارن پور میں رواں ماہ کے شروع 158 سالہ پرانی مسجد کو شہید کرنے کا واقعہ نمایاں ہے، اس لیے مذہبی منافرت کی اس دنیا میں کوئی جگہ نہیں ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی معاشی بحالی میری حکومت کی اولین ترجیح ہے، اصلاحات کے ذریعے معاشی اہداف حاصل کرنا ہماری ترجیح ہے اور ہماری معیشت نمو کی جانب گامزن ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے زراعت اور صنعت کو جدت دے رہے ہیں، معیشت کو ڈیجیٹائز کر رہے ہیں اور نوجوانوں کو جدید اے آئی اور آئی ٹی کی اسکلز سے مزین کر رہے ہیں، ہم پاک-چین اقتصادی راہداری اور خلیج کے ذریعے نئے راستے کھول رہے ہیں۔وزیراعظم نے چین کے صدر شی جن پنگ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صدر شی کی وژنری قیادت کو عالمی ترقیاتی، سویلائزیشن، عالمی سلامتی اور انتظامی اقدامات پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں، اس سے دنیا کو ترقی میں مدد ملے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کا سامنا ہے حالانکہ پاکستان ان خطرات کا ذمہ دار نہیں ہے لہٰذا ترقی یافتہ ممالک اپنا کردار ادا کریں۔