تقسیمِ ہند سے آزادیٔ پاکستان تک قربانی، محبت اور جذبوں کی داستان عینی شاہدین کی زبانی پتا چلتی ہے۔ قیامِ پاکستان لاکھوں شہدا، مہاجرین اور اسلاف کی بے مثال قربانیوں کا ثمر ہے۔قیامِ پاکستان کے عینی شاہد معروف اداکار مصطفیٰ قریشی نے آزادیٔ پاکستان سے جڑی بچپن کی یادیں بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حیدرآباد میں تشدد پسند ہندو تنظیم جنگ سنگی مسلمانوں پر حملے کرتی تھی، تاہم ان حالات نے مسلمانوں میں آزادی اور پاکستان کا جذبہ مزید مضبوط کیا۔مصطفی قریشی نے بتایا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کا نام ہمارے دل و دماغ پر نقش تھا اور پاکستان سے محبت ہمارا جذبہ بن چکا تھا۔ چھوٹا سا پاکستانی پرچم ہاتھ میں تھامے گلیوں میں گھومنا اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانا بچپن کی خوبصورت یاد بن گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ آزادی کی آرزو بچپن ہی سے دل میں رچ بس گئی تھی،غلامی کے بعد ایک آزاد وطن کا خواب حقیقت بننے جا رہا تھا ۔ ڈھاکا یونیورسٹی میں قائداعظمؒ نے واضح کیا تھا کہ آزادی حاصل ہوچکی ہے، مگر اسے حقیقی معنوں میں مضبوط اور برقرار رکھنا ہماری اصل ذمہ داری ہے۔ہمارے اسلاف اور مہاجرین کی قربانیاں پاکستان کی بنیاد ہیں، ان کی عظیم جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔




