غزہ کی شہری دفاعی ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی علاقے صبرہ میں ایک طویل امدادی کارروائی کے بعد ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے 112 افراد کی لاشیں اور انسانی باقیات ملبے سے نکال لی گئی ہیں۔شہری دفاع کے ترجمان کے مطابق امدادی ٹیموں نے تقریباً دو ہفتے قبل الحساینۃ خاندان کے رہائشی بلاک میں سرچ آپریشن شروع کیا تھا۔ ان کے مطابق یہ رہائشی عمارت اسرائیلی حملے میں مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھی۔ ترجمان نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے 136 گھنٹے مسلسل کام کرتے ہوئے ملبے سے 112 لاشیں اور باقیات برآمد کیں۔ شہری دفاع کے مطابق ان میں 40 بچے، 38 خواتین اور 7 معذور افراد بھی شامل ہیں۔ریسکیو آپریشن کے نگران کرنل محمد ابو دان نے کہا کہ خدشہ ہے کہ مزید 157 لاشیں اب بھی ملبے تلے دبی ہوئی ہیں، تاہم محدود وسائل اور بھاری مشینری کی عدم دستیابی کے باعث انہیں ابھی تک نکالا نہیں جا سکا۔انہوں نے بتایا کہ امدادی ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور کئی مقامات پر کارکنوں نے اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹا کر لاشوں تک رسائی حاصل کی۔ کرنل محمد ابو دان کے مطابق بعض لاشیں کنکریٹ اور سریے کے نیچے بری طرح دبی ہوئی تھیں، جبکہ کئی انسانی باقیات شدید تباہی کے باعث شناخت کے قابل نہیں رہیں۔انہوں نے عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ غزہ میں بھاری مشینری، ریسکیو آلات اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ ملبے تلے دبے دیگر افراد کی تلاش کا عمل جاری رکھا جا سکے۔خبر لکھے جانے تک اسرائیلی حکام کی جانب سے شہری دفاع کی جانب سے پیش کیے گئے ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی نہیں ہو سکی۔




