اگست 2, 2026

آزاد کشمیر کے انتخابی حلقوں میں مبینہ بے ضابطگیاں، پی پی کا الیکشن کمیشن سے فوری مداخلت کا مطالبہ

مظفرآباد: پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کے مختلف انتخابی حلقوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر الیکشن کمیشن سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر دیا۔پیپلز پارٹی نے مختلف حلقوں میں مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں پر الیکشن کمیشن سے فوری کارروائی اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کر دیا۔ الیکشن کمیشن کو ارسال درخواستوں میں مبینہ دھاندلی، انتظامی غفلت اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔پیپلز پارٹی نے شکایت درج کروائی کہ حلقہ ایل اے 28 کے 71 پولنگ اسٹیشنوں پر عملہ نہ پہنچنے سے پولنگ شروع نہ ہو سکی، حلقے کی چار یونین کونسلوں میں پولنگ عملے کی عدم موجودگی سے ووٹرز مشکلات کا شکار ہیں جس پر پیپلز پارٹی نے متاثرہ پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ کے اوقات بڑھانے کا مطالبہ کر دیا۔ حلقہ ایل اے 30 کے بناو لنگاہ پولنگ اسٹیشن پر بیلٹ باکس باہر منتقل کر کے مبینہ بیلٹ اسٹفنگ کی جا رہی ہے، پیپلز پارٹی نے مبینہ بیلٹ اسٹفنگ اور بیلٹ باکس کی منتقلی کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔حلقہ ایل اے 31 میں رنگلہ کٹکیر روڈ بند ہونے سے 50 سے زائد گاڑیوں میں سوار ووٹرز پھنس گئے، پیپلز پارٹی نے سڑک فوری کھلوانے اور پولنگ کے اوقات میں توسیع کا مطالبہ کر دیا۔حلقہ ایل اے 32 کے تین پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ ایجنٹس کو اندر بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ پیپلز پارٹی نے پولنگ اسٹیشن نمبر 24 پر مبینہ بیلٹ اسٹفنگ کی شکایت الیکشن کمیشن کو ارسال کرتے ہوئے کہا کہ حلقے میں ایک سرکاری ملازم مسلم لیگ (ن) کے پولنگ ایجنٹ کے طور پر تعینات ہے۔حلقہ ایل اے 34 میں پیپلز پارٹی کے پولنگ ایجنٹس کو مبینہ طور پر پولنگ اسٹیشنوں میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، پولنگ ایجنٹ کے لیے مقامی رہائشی ہونا قانونی شرط نہیں۔