جولائی 12, 2026

اقوام متحدہ میں ایران کا پاکستان سے اظہارِ تشکر، سلامتی کونسل اجلاس پر شدید اعتراض

نیویارک: ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنے جوہری پروگرام سے متعلق منعقد ہونے والے اجلاس میں ووٹنگ سے غیر حاضر رہنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اجلاس قانونی بنیاد سے محروم تھا اور اسے بلانے کا کوئی جواز موجود نہیں تھا۔اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے اجلاس کے بعد جاری بیان میں پاکستان اور صومالیہ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اجلاس بلانے کی حمایت نہیں کی۔ انہوں نے روس اور چین کو بھی اجلاس کی مخالفت کرنے پر سراہا۔ یہ اجلاس بحرین اور سلامتی کونسل کے پانچ یورپی رکن ممالک، ڈنمارک، فرانس، یونان، لٹویا اور برطانیہ کی درخواست پر بلایا گیا تھا۔ اجلاس میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 اور ایران کے جوہری معاہدے پر عمل درآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ایرانی مندوب نے مؤقف اختیار کیا کہ قرارداد 2231 گزشتہ سال 18 اکتوبر کو اپنی مدت پوری کر چکی ہے، اس لیے اب اس قرارداد کے تحت نہ سیکریٹری جنرل کی رپورٹ پیش کی جا سکتی ہے، نہ سلامتی کونسل میں اس پر بحث کی کوئی قانونی بنیاد موجود ہے۔امیر سعید ایروانی نے یورپی ممالک کی جانب سے ایران پر دوبارہ پابندیاں بحال کرنے کے لیے ’اسنیپ بیک‘ طریقہ کار استعمال کرنے کی کوشش کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فرانس، جرمنی اور برطانیہ خود جوہری معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے، اس لیے وہ اس معاہدے سے پیدا ہونے والے حقوق استعمال نہیں کر سکتے۔انہوں نے امریکا اور اسرائیل پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ دونوں ممالک نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے ذریعے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور انہیں اپنے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ایرانی مندوب نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی مسلسل نگرانی میں چل رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کو کبھی بھی فوجی مقاصد کی طرف نہیں موڑا گیا۔انہوں نے مغربی ممالک پر الزام لگایا کہ وہ سلامتی کونسل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور قرارداد 2231 کی غلط تشریح کر کے حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے امیر سعید ایروانی نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اس اہم بحری گزرگاہ میں بحری آمدورفت کی بحالی اور بارودی سرنگوں کی صفائی کی ذمہ داری صرف ایران کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی بیرونی مداخلت سے نہ صرف معاہدے پر عمل درآمد متاثر ہو سکتا ہے بلکہ خطے میں کشیدگی بھی مزید بڑھ سکتی ہے۔