عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج ختم نہیں ہوا بلکہ اب احتجاج کے نئے مرحلے کے طور پر اسٹریٹ موومنٹ شروع کی جا رہی ہے۔عدالت پیشی کے موقع پر انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد صرف بھائی سے ایک ملاقات نہیں بلکہ ان کے حقوق کی بحالی ہے۔ ان کے بقول، ان کا بھائی انسانی حقوق، جمہوریت اور انصاف پر پابندی کی علامت بن چکا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ پہلے روز بار بار وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے، مگر اب ٹرائل سے بھاگا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج صبح انہیں عدالت بلایا گیا، لیکن آنے سے پہلے ہی 11 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی، جو ان کے مطابق سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تاریخیں اوپر سے آنے والے احکامات کے مطابق دی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے وارنٹ، بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے اور شناختی کارڈ بلاک کرنے کے لیے فوری سماعت کی جاتی تھی۔ اگر سزا دینی ہے تو دے دیں اور جیل بھیج دیں، لیکن اگر کیس میں کچھ نہیں تو بری کر دیں، وہ اس کیس کو تلوار کی طرح لٹکنے نہیں دیں گی۔علیمہ خان نے الزام عائد کیا کہ بانی کی رہائی کے لیے عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ججز آزاد نہیں ہوں گے، میرٹ پر فیصلے نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق، وہ کہتے ہیں کہ کیس چلایا جائے، مگر اب مخالف فریق خود ٹرائل سے بھاگ رہا ہے، جبکہ انصاف کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا بھی ایک مجرمانہ عمل ہے۔ انہوں نے پنجاب حکومت کو "فارم 47 کی جعلی حکومت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے خوف کے بت ٹوٹ چکے ہیں۔ ان کے مطابق، اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج سے عوام کا خوف ختم ہوا ہے، جبکہ وہ اور ان کی دونوں بہنیں اڈیالہ جیل کے باہر موجود رہیں گی اور اسٹریٹ موومنٹ گلی گلی تک لے جائیں گی۔وکیل صفائی فیصل محمود ملک نے کہا کہ عدالت میں وزراء کی میڈیا ٹاک کی ویڈیو ریکارڈنگ کے فرانزک کی درخواست دائر کر دی گئی ہے، ویڈیو ریکارڈنگ کا ٹیسٹ کسی بھی بین الاقوامی فرانزک لیبارٹری سے کرایا جائے۔فیصل محمود ملک نے کہا کہ وزراء محسن نقوی، عطا تارڑ اور عظمیٰ بخاری کی میڈیا ٹاک علیمہ خان کے کیس کو ختم کرتی ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری لیبارٹری پر اعتماد نہیں، اس لیے فرانزک کسی بھی بین الاقوامی لیبارٹری سے کرایا جائے۔وکیل صفائی نے کہا کہ فرانزک رپورٹ آنے کے بعد وزراء کو بطور عدالتی گواہ طلب کیا جائے اور ان پر وکیل صفائی اور سرکاری وکیل کو جرح کرنے کی اجازت دی جائے۔




