عرب میڈیا ادارے العربیہ انگلش نے امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت کی ایک نقل حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس میں جنگ کے خاتمے، پابندیوں کے مرحلہ وار خاتمے، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کی اقتصادی تعمیر نو سمیت متعدد اہم نکات شامل ہیں۔دستاویز کے مطابق امریکا، ایران اور ان کے اتحادی معاہدے پر دستخط کے ساتھ ہی ایران، لبنان اور دیگر تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی کا اعلان کریں گے۔ دونوں ممالک اس بات کے بھی پابند ہوں گے کہ وہ مستقبل میں ایک دوسرے کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی، دھمکی یا طاقت کے استعمال سے گریز کریں گے۔مجوزہ یادداشت کے تحت امریکا اور ایران ایک دوسرے کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول کو تسلیم کریں گے۔ دونوں ممالک 60 روز کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کریں گے، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی ممکن ہوگی۔دستاویز کے مطابق امریکا معاہدے پر دستخط کے فوری بعد ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرے گا اور 30 روز کے اندر آبنائے ہرمز اور سمندری راستوں پر تجارتی سرگرمیوں کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ امریکا اپنی فوجی موجودگی بھی حتمی معاہدے کے بعد 30 روز کے اندر قریبی علاقوں سے کم یا ختم کرنے کا پابند ہوگا۔معاہدے کے تحت ایران بھی عرب خلیج اور بحیرہ عمان کے درمیان تجارتی جہازوں کی آمدورفت بحال کرے گا اور سمندری بارودی سرنگوں سمیت تکنیکی رکاوٹوں کو دور کرنے کے اقدامات کرے گا۔دستاویز میں ایران کی اقتصادی بحالی کے لیے ایک جامع منصوبہ بھی شامل ہے، جس کے تحت امریکا اور اس کے علاقائی شراکت دار کم از کم 300 ارب ڈالر کی مالی معاونت اور سرمایہ کاری کے فریم ورک پر کام کریں گے۔ اس منصوبے کی تفصیلات حتمی معاہدے کے 60 روز کے اندر طے کی جائیں گی۔مجوزہ یادداشت کے مطابق امریکا ایران پر عائد اقوام متحدہ، آئی اے ای اے اور یکطرفہ امریکی پابندیوں کے خاتمے کے لیے ایک متفقہ شیڈول ترتیب دے گا۔ اس دوران ایرانی خام تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات، بینکاری، انشورنس اور شپنگ سے متعلق پابندیوں میں نرمی کے لیے خصوصی اجازت نامے جاری کیے جائیں گےجوہری معاملے پر ایران نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔ تاہم افزودہ یورینیم اور دیگر جوہری معاملات کا حتمی فیصلہ آئندہ جامع معاہدے میں کیا جائے گا۔دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے دوران ایران اپنے موجودہ جوہری پروگرام کی صورتحال برقرار رکھے گا جبکہ امریکا نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا اور خطے میں اپنی فوجی طاقت میں مزید اضافہ نہیں کرے گا۔علاوہ ازیں امریکا ایران کے منجمد اثاثوں اور مالی وسائل کو مرحلہ وار جاری کرنے پر بھی آمادہ ہوگا، جبکہ معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ مانیٹرنگ میکانزم قائم کیا جائے گا۔مجوزہ یادداشت کے مطابق حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک لازمی اور پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔




