امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے مسودے میں متعدد ترامیم شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ایگزیوس سے گفتگو کرنے والے ایک امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ معاہدہ کرنے کے خواہاں ہیں، تاہم وہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق شقوں کو مزید سخت اور واضح بنانا چاہتے ہیں۔عہدیدار کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے دوران معاہدے کے مسودے کا جائزہ لیا اور اس میں نظرثانی کی ہدایت جاری کی۔رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ خاص طور پر ایران کے افزودہ یورینیم کے مستقبل، اس کے ذخائر اور ممکنہ منتقلی کے طریقہ کار سے متعلق مزید وضاحت چاہتے ہیں۔امریکی قیادت کا مؤقف ہے کہ ان نکات کو حتمی معاہدے میں زیادہ واضح انداز میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ بعد میں کسی قسم کے ابہام کی گنجائش نہ رہے۔امریکی عہدیدار نے یہ بھی بتایا کہ صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کو کھولنے اور بحری آمد و رفت کی بحالی سے متعلق بعض شقوں کی زبان میں بھی تبدیلی چاہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ معاہدے کی شرائط زیادہ مضبوط اور قابلِ عمل ہونی چاہئیں۔رپورٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے مجوزہ ترامیم ایران کو بھجوا دی گئی ہیں اور توقع ہے کہ تہران ان پر تقریباً تین دن کے اندر اپنا جواب دے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر دونوں فریق متنازع نکات پر اتفاق کر لیتے ہیں تو معاہدہ ایک ہفتے یا اس سے بھی کم وقت میں طے پا سکتا ہے۔مبصرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ حالیہ کشیدگی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان سب سے بڑی سفارتی پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے، تاہم جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی سے متعلق معاملات اب بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہیں۔




