ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا پر جنگی اخراجات کے حوالے سے غلط معلومات دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون جنگ کی اصل لاگت کو کم ظاہر کر رہا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیوں کے تحت لڑی گئی، اس کی اصل لاگت امریکا کے لیے اب تک تقریباً 100 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ رقم ان سرکاری دعوؤں سے چار گنا زیادہ ہے جو امریکی حکام کی جانب سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ عباس عراقچی کے مطابق جنگ کے بالواسطہ اخراجات اس سے بھی کہیں زیادہ ہیں، جن کا بوجھ براہ راست امریکی عوام پر پڑ رہا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے مزید دعویٰ کیا کہ اس جنگ کے باعث ہر امریکی گھرانے پر ماہانہ تقریباً 500 ڈالر کا اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے، جو تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو ترجیح دینے کی پالیسی کا مطلب ہمیشہ امریکا کو نقصان پہنچانا ہے۔ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان اس طرح کے بیانات خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جبکہ جنگی اخراجات اور عالمی سیاست پر نئی بحث بھی شروع ہو سکتی ہے۔




