کراچی:پاکستان کرکٹ تاریخ کی سب سے مہنگی ڈیل کا امکان بڑھنے لگا، اس سے پی سی بی کے خزانے میں اربوں کا اضافہ ہو جائے گا، ایک پی ایس ایل فرنچائز نے پی ایس ایل براڈکاسٹ کیلیے سالانہ ساڑھے چار ارب روپے دینے کا ذہن بنا لیا، معاملات طے پانے پر 18 ارب تک میں چار سالہ معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق پی سی بی نے کچھ عرصے قبل چار سالہ پی ایس ایل میڈیا رائٹس کے لیے اشتہار جاری کیا تھا، اس پر کئی پارٹیز سامنے آئیں، 2 بڑے اسپورٹس چینلز بھی دوڑ میں شامل ہونا چاہتے تھے مگر ان میں سے ایک پر مبینہ طور پر 4 ارببلیوں میں پائے جانے والے کچھ حیاتیاتی نظام اور بیماریوں کے خلاف قدرتی مزاحمت انسانوں میں کینسر کے علاج کی نئی راہیں کھول سکتی ہے۔بلیوں میں ایک وائرس پایا جاتا ہے جسے FIV) Feline Immunodeficiency Virus) کہتے ہیں، جو انسانی ایچ آئی وی سے ملتا جلتا ہے۔ چونکہ دونوں وائرس مدافعتی نظام پر حملہ کرتے ہیں، اس لیے سائنس دان بلیوں پر ہونے والی تحقیق سے قوتِ مدافعت کے ردِعمل کو بہتر طور پر سمجھ رہے ہیں۔اسی طرح سائنسدان امیونوتھراپی کے نئے طریقے دریافت بھی کر سکتے ہیں۔ یہ تحقیق کینسر کے علاج میں مدافعتی خلیوں کو مضبوط یا ہدفی بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔دوسری جانب بلیوں میں کئی ایسے کینسر قدرتی طور پر پیدا ہوتے ہیں جو انسانوں میں پائے جانے والے کینسر سے بہت ملتے جلتے ہیں جیسے لیمفوما اور چھاتی کا کینسر۔ کیونکہ یہ کینسر قدرتی ماحول میں بنتے ہیں اس لیے ادویات کے حقیقی اثرات جانچنے میں مدد ملتی ہے اور نئی تھراپیوں کی آزمائش زیادہ حقیقت پسندانہ ہوتی ہے۔انسان اور بلی کے جینوم میں کئی حیاتیاتی راستے بھی مشترک ہیں، خاص طور پر سیل گروتھ کنٹرول، ڈی این اے مرمت کے نظام اور ٹیومر کے پھیلاؤ کا عمل۔یہی وجہ ہے کہ سرطان شناسی ایک ابھرتا ہوا شعبہ ہے جس میں جانوروں اور انسانوں میں کینسر کا مشترکہ مطالعہ کیا جاتا ہے۔ 70روپے کے واجبات ہیں، دوسرے کو 60کروڑ سے زائد رقم ادا کرنی ہے۔بورڈ نے یہ معاملہ حل کرنے کے لیے دونوں پارٹیز کو وقت دیا لیکن ادائیگیاں نہ ہو سکیں جس پر گزشتہ روز انھیں ڈس کوالیفائی کرنے کے خطوط بھیج دیے گئے۔ذرائع نے بتایا کہ پی ایس ایل فرنچائز خریدنے والی ایک کمپنی میڈیا رائٹس لینے میں بھی دلچسپی رکھتی ہے، اس کی جانب سے ریکارڈ توڑ بڈ ہو سکتی ہے، بعض باخبر حلقے سالانہ ساڑھے چار ارب اور 4 برس کیلیے 18 ارب روپے کی بولی کا بھی دعویٰ کر رہے ہیں، لائیو اسٹریمنگ کی بڈ 7 ارب تک بھی جا سکتی ہے، اس صورت میں یہ پاکستان کرکٹ تاریخ کی سب سے بڑی ڈیل ہو جائے گی۔بورڈ نے چینلز کی مبینہ ملی بھگت روکنے کے لیے اس بار کنسورشیم کی اجازت نہیں دی، مذکورہ کمپنی بڈ جیتنے پر ممکنہ طورپر سرکاری ٹی وی کی اسکرین استعمال کرے گی۔پی سی بی نے پاکستان میں پی ایس ایل براڈ کاسٹ اور لائیو اسٹریمنگ کی فروخت کا ٹینڈر جاری کیا تھا، کوئی بھی کمپنی دونوں یا کسی ایک میں بڈ کر سکتی تھی، دونوں کی بڈ سیکیورٹی 10، 10 کروڑ روپے ہے، فاتح کمپنی کی رقم ایڈجسٹ جبکہ دیگر کو واپس مل جائے گی، گو کہ ریزرو پرائس ابھی سامنے نہیں آئی لیکن محتاط اندازے کے مطابق یہ 18 ارب تک ہی ہو سکتی ہے۔لائیو اسٹریمنگ کے لیے 6 ارب تک ریزرو پرائس کا امکان ہے، گزشتہ برس پی ایس ایل کے 34 میچز ہوئے تھے اب 2 نئی ٹیموں کی شمولیت سے تعداد 44 تک پہنچ جائے گی۔ ہر سال 10 اضافی میچز سے یہ چار سالہ ڈیل سابقہ ویلیو کے لحاظ سے 5 سالہ بن جائے گی۔حالیہ بڈنگ میں شریک ایک اور میڈیا چینل ماضی میں بلیک لسٹ بھی رہ چکا، اس کی جانب سے بڑی بڈ دیے جانے کا کوئی امکان نہیں لگتا، یوں بظاہر میدان پی ایس ایل فرنچائز کے لیے خالی نظر آتا ہے۔قوانین کے مطابق پروڈکشن اخراجات نکالنے کے بعد 3 ارب روپے سے بڑی براڈ کاسٹ ڈیل کی صورت میں اضافی رقم میں سے 5 لاکھ ڈالر آئیکون غیر ملکی کرکٹرز سے معاہدے کیلیے رکھے جائیں گے، باقی 80 فیصد حصہ پی سی بی اور 20 فیصد فرنچائز کو ملے گا۔گزشتہ برس پروڈکشن کے اخراجات ایک ارب روپے سے زائد تھے، لیگ کا 11 واں ایڈیشن 26 مارچ کو شروع ہوگا۔




