موسم سرما میں ایک پکوان لوگ کافی زیادہ کھاتے ہیں اور وہ ہے سرسوں کا ساگ۔سرسوں کا ساگ صحت کے لیے بہت زیادہ مفید ہوتا ہے اور اس میں متعدد منرلز اور وٹامنز موجود ہوتے ہیں جبکہ کیلوریز بہت کم ہوتی ہیں۔اسے کھانے سے جسمانی توانائی بڑھتی ہے، جبکہ متعدد وٹامنز، منرلز، فائبر اور پروٹین جسم کا حصہ بنتے ہیں۔اس کے چند فوائد درج ذیل ہیں جو اسے اس موسم کی بہترین سوغات ثابت کرتے ہیں۔
اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور
سرسوں کا ساگ 3 طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹس سے لیس ہوتا ہے۔وٹامن K، وٹامن اے اور وٹامن سی، جبکہ اس میں فولیٹ اور وٹامن ای بھی موجود ہوتے ہیں۔وٹامن اے، ای اور سی جسم میں خلیات کو نقصان پہنچانے کے لیے گردش کرنے والے مضر مواد کو ختم کرتے ہیں۔ان اینٹی آکسائیڈنٹس سے مختلف دائمی امراض سے تحفظ ملتا ہے۔
ورم کش
اس ساگ میں موجود وٹامن K اور اومیگا 3 فیٹی ایسڈز ورم کش ہوتے ہیں۔
جسمانی ورم کو اکگر کنٹرول میں نہ رکھا جائے تو طویل المعیاد بنیادوں پر امراض قلب، جوڑوں کے امراض، کینسر اور دیگر کا خطرہ بڑھتا ہے۔
امراض قلب سے تحفظ
تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ سبز پتوں والی سبزیاں جیسے سرسوں کے ساگ کو اکثر کھانے سے امراض قلب سے متاثر ہونے کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوتا ہے۔ان سبزیوں میں ایسے اجزا موجود ہوتے ہیں جو جسم میں کولیسٹرول کی سطح کم کرتے ہیں اور شریانوں میں چربیلا مواد جمع نہیں ہوتا، جس سے امراض قلب اور فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔سرسوں کے ساگ میں موجود وٹامن K خون کے جمنے یا بلڈ کلاٹ کا خطرہ کم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
غذائی فائبر کا حصول
غذائی فائبر نظام ہاضمہ کی صحت کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔سرسوں کے ساگ میں یہ فائبر کافی مقدار میں ہوتا ہے اور اسے کھانے سے آنتوں کی صحت بہتر ہوتی ہے، میٹابولزم کو کنٹرول کرنے مین مدد ملتی ہے جبکہ قبض جیسے مسئلے سے بچنا آسان ہو جاتا ہے۔
ہڈیوں کے لیے بھی مفید
وٹامن K ہڈیوں کی صحت کے لیے بھی اہم ہوتا ہے۔
جسم میں وٹامن K کی کمی سے ہڈیوں کے مختلف امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ غذا کے ذریعے مناسب مقدار میں وٹامن K کے حصول سے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں اور فریکچر سے تحفظ ملتا ہے۔
بینائی کو فائدہ پہنچاتا ہے
سرسوں کے ساگ میں لیوٹین اور zeaxanthin جیسے مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں۔یہ دونوں مرکبات آنکھوں کو صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں اور عمر بڑھنے سے بینائی میں آنے والی کمزوری سے تحفظ ملتا ہے۔
جسمانی وزن میں کمی
غذائی فائبر سے بھرپور سبزیاں جیسے سرسوں کا ساگ جسمانی وزن میں کمی لانے کے لیے بھی مفید ثابت ہوتی ہیں۔ان سبزیوں سے میٹابولزم زیادہ متحرک ہوتا ہے اور جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔
دمہ کے مریضوں کے لیے مفید
وٹامن سی ایسا غذائی جز ہے جو دمہ کے مریضوں کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔وٹامن سی ورم کا باعث بننے والے اس مواد کے ٹکڑے کرتا ہے جو دمہ کے مریضوں میں زیادہ بننے لگتا ہے۔اس ساگ میں موجود میگنیشم بھی پھیپھڑوں کو پرسکون رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
دماغ کو بھی فائدہ ہوتا ہے
تحقیقی رپورٹس سے عندیہ ملا ہے کہ لیوٹین سے دماغی ٹشوز کو فائدہ ہوتا ہے۔اس سے دماغی کارکردگی بہتر ہوتی ہے جبکہ دماغی تنزلی کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
مدافعتی نظام کو مضبوط بنائے
اینٹی آکسائیڈنٹس کے ساتھ ساتھ سرسوں کے ساگ میں وٹامن سی کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے۔
یہ وٹامن مضبوط مدافعتی نظام کے لیے ضروری ہوتا ہے اور جسم میں اس کی کمی سے اکثر بیمار رہنے کا خطرہ بڑھتا ہے۔اسی طرح وٹامن اے بھی امراض کے خلاف مدافعتی ردعمل میں معاونت فراہم کرتا ہے۔
متعدد غذائی اجزا کا حصول
سرسوں کے ساگ میں صحت کے لیے مفید متعدد اینٹی آکسائیڈنٹس جیسے بیٹا کیروٹین موجود ہوتے ہیں جو جِلد کا تحفظ کرنے کے ساتھ ساتھ ذیابیطس سے متاثر ہونے کا خطرہ کم کرتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ اس میں وٹامن بی 1، وٹامن بی 3، وٹامن بی 6، وٹامن K، وٹامن سی، وٹامن اے، کیلشیئم، پوٹاشیم، پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، آئرن، زنک، فاسفورس اور فائبر جیسے غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں۔نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔




