جنسی استحصال، کیمپس میں خفیہ ریکارڈنگ، منشیات کے استعمال کے بعد ریپ اور کسی چیز کو خواتین کے حساس عضو میں ڈالنا۔۔۔۔۔’کری ایٹو پرائیویٹ روم‘ نامی یہ کیس ’تائیوانی وریژن آف روم این‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں غیر قانونی سیکس کی دو لاکھ سے زیادہ ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔متاثرین میں شامل چار ہزار افراد کا تعلق تائیوان، میوکو اور ملائیشیا سے تھا اوران میں ایلیمنٹری سکول کے بچے بھی شامل ہیں۔ ان غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد میں تائیوان کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔لیکن سماجی کارکن کے کونسلنگ روم میں آنے والے یہ سزا یافتہ مجرم اتنے بھی ’گمراہ‘ اور نافرمان نہیں تھے جیسا کہ بیرونی دنیا میں اُن کا تصور تھا۔ وہ اپنی روزمرہ معمول کی زندگی میں عام انسانوں جیسے تھے۔سماجی کارکنان کے سپروائزر ڈنگ ینگجون نے بی بی سی چینی سروس کو بتایا کہ ’وہ کسی بھی اچھے طلبہ کی طرح کلاس روم کی اگلی قطار میں بیٹھتے ہیں، لیکن انٹرنیٹ پر اُن کی زندگی اور شخصیت بالکل مختلف تھیں۔‘گذشتہ چھ برسوں کے دوران ڈنگ ینگجون کا رابطہ چائلڈ پورنوگرافی کے جرائم میں ملوث 600 افراد سے ہوا۔ان میں تمام افراد کی عمر 35 سال یا اُس سے کم تھی۔ بعض افراد بالغ نہیں تھے۔ یہ افراد بولتے وقت آنکھ ملانے سے بھی قاصر تھے۔یہ تمام افراد قابل احترام اور ہمدرد تھے لیکن ان میں اکثر کو اس تکلیف کا اندازہ نہیں تھا جو اُن کے جرائم سے متاثر ہونے والے افراد کو ہوئی کیونکہ ان کے نزدیک یہ صرف ایک آن لائن گیم تھی۔ان گیمز میں خواتین کو ’شکار‘ کے طور پر دکھایا جاتا تھا اور گیم کھیلنے والوں میں جیتنے، ہدف کو نشانہ بنانے کے سبب ہمدردی جیسے جذبات دب جاتے تھے۔رواں سال جولائی کے آخر میں تائی چنگ ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر کے دفتر نے پرائیوٹ روم کے کئی اہم افسران اور ڈسٹری بیوٹرز پر فرد جرم عائد کی۔پچھلے سال انھوں نے تائیوان کی تاریخ میں بچوں کے جنسی استحصال کے حوالے سے سب سے بڑا چھاپہ مارا جس میں ’پرائیوٹ روم‘ سمیت مختلف آن لائن کمیونٹیز پر چھاپا مارا اور بے ہودہ مواد رکھنے پر تقریباً 400 مشتبہ افراد کو بے نقاب کیا۔جب انھیں حقیقی دنیا میں واپس لایا جاتا ہے تو بہت سے نوجوان اعتراف کرتے ہیں کہ ’وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ یہاں تک کیسے پہنچے۔‘اسی رویے نے سماجی کارکنوں اور پراسیکیوٹرز کو یہ پوچھنے پر مجبور کیا ہے کہ وہ کسی دوسرے منصوبہ ساز کو شیطان بننے سے کیسے روکیں گے؟
تائیوان کے معاشر میں ڈیجیٹل ورلڈ پر صنفی تشدد ایک سنگین مسئلہ ہے۔
تائیوان کی وزارت صحت و ویلفئیر کے اعدادوشمار کے مطابق تائیوان کے تقریباً 60 فیصد شہریوں نے صنفی بنیاد پر ڈیجیٹل تشدد سے متاثر ہوئے ہیں جن میں سے تقریبا 10 فیصد افراد کو مختلف طریقوں جیسے خفیہ فلم بندی، لبھانا، جنسی تصاویر کی تقسیم جیسے طریقوں سے تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔’Creative Private House’ تائیوان کی سب سے بڑی غیر قانونی سیکس ویڈیوز کی ویب سائٹ نے تائیوان کے معاشرے کو حیران کر دیا ہے۔سنہ 2024 میں پراسیکیوٹرز نے ایک چھاپے میں اس ویب سائٹ سے وابستہ 116 سے زائد افراد کو پکڑ لیا، جن میں کئی اہم افراد بھی شامل تھے۔اس کیس سے وابستہ ایک پراسیکیوٹر نے بی بی سی چینی سروس کو بتایا کہ زیادہ تر مشتبہ افراد کے آن لائن رویہ اور حقیقی زندگی میں بہت فرق تھا۔ یہ افراد معمول کی نوکریاں جیسے انجیئیرنگ، ٹیچنگ، سوشل ورک اور سرکاری نوکریاں کرتے تھے اور ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ بھی نہیں تھا۔گزشتہ سال تحقیقات کے دوران ُسزا کے خوف سے دو مشتبہ افراد نے خودکشی کی۔ ان میں سے ایک اپنے شعبے میں جانے مانے پروفیسر تھے اور وہ جرائم کے انکشاف کو برداشت نہیں کر سکے۔ دوسری جانب بہت سے ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے تعاون کیا، اپنے جرائم کا اعتراف کیا لیکن وہ ‘حقیقت میں آن لائن شیطان تھے جو متاثرین کو مرنے کا کہہ رہے تھے۔’بظاہر ان ‘بے ضرر’ افراد نے سنگین جرائم کیے ہیں جن میں دھوکہ دہی، آن لائن ڈیٹنگ، جنسی تجارت کے ذریعے متاثرین کی جنسی نوعیت کی تصاویر لینا اور منشیات کے ذریعے خواتین پر جنسی حملہ کرنا، خواتین اور بچوں کو کتوں کی طرح چلنے پر مجبور کرنا، جسم پر سوئیاں چھبونا اور پرائیویٹ پارٹس (اعضائے مخصوصہ) میں کوئی بیرونی چیز ڈالنا شامل ہے۔سماجی کارکن ڈنگ ینگجون، آگاہی اور روک تھام کے لیے کی جانے والے حکومتی کوشیشوں میں آگے آگے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ان کو کوشش رہی ہیں کہ وہ ان مجرموں کے عزائم کو سمجھیں اور انھیں راہ راست پر لائیں۔’کسی بھی جرم کے متاثرین بھی ہوتے ہیں اور منصوبہ ساز بھی اور تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر ہی مکمل تصویر سامنے آتی ہے۔ چینی سروس سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ وہ سمجھ رہی تھیں کہ کلاس میں اُن کا واسطہ نافرمان، بد تمعیز افراد سے پڑے گا لیکن حیران کن طور پر وہ بالکل ایسے تھے جیسے ہمارے اردگرد موجود افراد ہوں۔ڈنگ ینگجون کے مطابق یہ طلبا مختلف عمر کے تھے اور ان میں سے کئی اعلیٰ تعلیمی قابلیت رکھتے ہیں جو ایک پریشان کن صورتحال ہے۔
عورتوں کا ‘شکار’ کرنے والے گیم
انٹرنیٹ نے مجرموں کے لیے ایک اور دنیا تخلیق کر دی ہے۔تائی پے ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹرز دفتر کے ایک پراہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ لوگ جو حقیقی زندگی میں ایک دوسرے سے ناواقف ہیں، انٹرنیٹ پر انھوں نے ‘مشترکہ اقدار اور اصولوں پر مبنی ایک کمیونٹی’ تشکیل دی جو کئی سالوں تک خفیہ طور پر کام کر رہی ہے۔ان کمیونٹیز میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہیں۔اس کے پانچ ہزار سے زائد ممبران ہیں اس کے علاوہ ٹیلگرام یا فیس بک پر ایسے گروپس اور سوسائٹیزمیں ممبران کی تعداد 40 سے 50 ہزار سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ڈنگ ینگجون کے مطابق آج کل ان ‘آن لائن کمیونٹیز’ کا دارومدار زیادہ جنسی تصویری پر مبنی جرائم پر ہوتا ہے کیونکہ یہ آن لائن گیمز کے لیے ‘گیمافائیڈ’ معیار پر پورا اترتی ہیں۔ان آن لائن سپیسز پر ممبران آپس میں بہت زیادہ انٹرایکٹو ہوتے ہیں۔ خواتین کی جنسی تصاویر کی فروخت اور پھیلانے والی پوسٹس کو زیادہ شیئر کیا جاتا ہے اور اُن پر زیادہ تبصرے ہوتے ہیں۔ بعض گروپس ایسے بھی ہیں جس میں ڈسٹریبیوٹرز خواتین کی شناخت بھی ظاہر کر دیتے ہیں اور ممبران کو یہ اجازت بھی ہوتی ہے کہ وہ انھیں فلم بندی کرنے پر رضدمند کریں۔وہ آپس میں اُن خواتین کی خوبصورتی، جسمانی خدوخال پر تبصرہ کرتے ہیں اور تصویر تلاش کرنے کے لیے کی گئی سرچ پر بھی بات کرتے ہیں۔ پھر گروپس میں شامل تمام افراد ان (خواتین) کی تلاش شروع کر دیتے ہیں جو پہلے تلاش کرتا ہے وہ جیت جاتا ہے۔ یہ سب بالکل ویڈیو گیمز جیسا ہے۔ایک مجرم نے اعتراف کیا کہ اس نے خواتین سے آن لائن ملاقات کی اور انہیں عریاں تصاویر لینے پر مجبور کیا۔ انھوں نے سنسنی، تفریح اور کامیابی کے احساس کو محسوس کرتے ہوئے ایک درجے کو عبور کیا۔انھیں لگا کہ کامیابی آسان ہے اور پھر وہ صرف اگلے ہدف کی طرف بڑھے گا اور کھیل جاری رہا۔




