ایک حالیہ طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزمرہ میک اپ کی مصنوعات جیسے لپ اسٹک، بلش اور فیک نیلز کا مستقل استعمال خواتین میں جوانی کے بعد دمہ (asthma) لاحق ہونے کے خطرات میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔امریکا کے نیشنل ہارٹ، لنگ اینڈ بلڈ انسٹیٹیوٹ کے ماہرین کی 12 سالہ تحقیق میں تقریباً 40 ہزار خواتین کا جائزہ لیا گیا، اس دوران معلوم ہوا کہ جو خواتین مسلسل بیوٹی مصنوعات استعمال کرتی تھیں، ان میں بالغ عمر میں دمہ لاحق ہونے کا خطرہ 19 سے 22 فیصد تک زیادہ پایا گیا۔صرف بلش اور لپ اسٹک ہفتے میں 5 یا اس سے زائد مرتبہ استعمال کرنے والی خواتین میں دمہ کا خطرہ 18 فیصد بڑھا جبکہ فیک نیلز، لپ اسٹک اور بلش استعمال کرنے والی خواتین میں یہ خطرہ 47 فیصد تک بڑھ گیا۔ماہرین کے مطابق ان بیوٹی مصنوعات میں موجود بعض کیمیکل انسانی جسم میں ہارمونل نظام میں مداخلت کر سکتے ہیں اور مدافعتی نظام کو بھی کمزور کر سکتے ہیں، ان کیمیکلز کو Endocrine Disrupting Chemicals (EDCs) کہا جاتا ہے۔تحقیق میں شامل 1774 خواتین یعنی کل شرکاء کا تقریباً 4 فیصد تحقیق کے اختتام تک بالغ عمر میں دمہ کا شکار ہو چکی تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ تحقیق براہِ راست سبب و اثر کو ثابت نہیں کرتی لیکن واضح تعلق کی نشاندہی ضرور کرتی ہے۔تحقیقی جریدے Environment International میں شائع اس مطالعے میں ماہرین نے زور دیا کہ پرسنل کیئر کی مصنوعات (Personal Care Products) کی ساخت اور کیمیکل اجزاء کی سخت نگرانی اور ضابطہ کاری کی ضرورت ہے۔یہ انڈیا میں کرپٹو کرنسی کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری تھی۔انڈیا میں ’وزیرایکس‘ نامی ایک متحرک کرپٹو ایکسچینج سے دو ہزار کروڑ روپے کے ٹوکنز (ڈیجیٹل اثاثے) منٹوں میں غائب ہو گئے اور سوال اٹھنے لگے کہ یہ محفوظ نظام کیسے ہیک ہو گیا اور چور کون تھا۔18 جولائی 2024 کو مبینہ طور پر ہیکرز نے ’وزیرایکس‘ کے ذخائر کا تقریباً 45 فیصد چرا لیا تھا۔یہ اُس وقت انڈیا کا سب سے بڑا کرپٹو ایکسچینج سمجھا جاتا تھا، جس کے صارفین کی تعداد 1.6 کروڑ سے زیادہ تھی۔اس چوری کے ٹھیک ایک برس بعد ایک اور انڈین کرپٹو ایکسچینج ’کوائن ڈی سی ایکس‘ کو رواں ماہ 44 ملین ڈالر کی چوری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔رواں سال کے آغاز میں کرپٹو ایکسچینج ‘بائے بٹ’ کو ہیک کر کے یہاں سے 1.5 ارب ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل ٹوکن چوری کیے گئے تھے، جو کرپٹو کرنسی کی تاریخ میں اب تک کی سب سے بڑی چوری ہے۔کرپٹو ایکسچینج بینک کی طرح کام کرتا ہے، جہاں پیسوں کی بجائے ڈیجیٹل کرنسی استعمال ہوتی ہے اور جس سے آپ آن لائن خرید و فروخت کر سکتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بینک حکومت کے تحت چلتے ہیں جبکہ کرپٹو ایکسچینج اکثر غیر منظم ہوتے ہیں۔چوری کے بعد اس ایکسچینج نے فوری طور پر اپنے تمام اکاؤنٹس کو منجمد کر دیا، جو آج بھی منجمد ہیں، جن میں سے زیادہ تر اکاؤنٹس کے مالکان انڈین شہری ہیں۔’وزیرایکس‘ کا کہنا ہے کہ وہ صارفین کے گمشدہ اور منجمد فنڈز واپس کرنے کے عمل میں ہے لیکن چوری ہونے والی کرپٹو کرنسی کے حوالے سے کئی سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔واضح کر دیں کہ انڈیا میں کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ پر پابندی نہیں لیکن حکومت اسے باضابطہ طور پر ریگولیٹ بھی نہیں کرتی اور اس حقیقت سے کرپٹو سرمایہ کار عام طور پر واقف ہیں۔حکومت کی جانب سے وزیرایکس میں ہونے والی چوری کی تحقیقات کا آغاز اکتوبر میں کیا گیا تھا تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے۔




