مئی 7, 2026

فلسطینیوں کی آواز اٹھانے پر صحافی کو کیوں نکالا؟ کرکٹر کا انٹرویو دینے سے انکار

آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ نے فلسطنیوں کے حق میں آواز اٹھانے پر نوکری سے نکالے گئے صحافی سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے چینل کو انٹرویو دینے سے انکار کردیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ ایک مرتبہ پھر فلسطینوں کے حق اور انکی نسل کشی کیخلاف ڈٹ گئے، انہوں نے غزہ کے حق میں بولنے کی وجہ سے صحافی کو نوکری سے نکالنے والے ادارے کو انٹرویو دینے سے صاف انکار کردیا۔انہوں نے ادارے کا مائیک دیکھ کر انٹرویو سے انکار کیا اور صحافی سے معذرت بھی کی۔خیال رہے کہ آسٹریلوی ریڈیو نے غزہ کے حق میں بولنے کی وجہ سے معروف کرکٹ جرنلسٹ پیٹر لالر کو نوکری سے نکال دیا تھا، انہوں نے رواں برس فروری میں سوشل میڈیا پر غزہ کے حق اور فلسطینوں کی نسل کشی پر بیان جاری کیا تھا۔عثمان خواجہ سوشل میڈیا پر معروف صحافی پیٹر لالر کے حق میں بولے اور نوکری سے نکالے جانے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔انٹرویو دینے سے انکار پر پیٹر لالر نے عثمان خواجہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ عثمان خواجہ اصول پرست انسان ہیں، میں انکی حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔واضح رہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے پہلے روز عثمان خواجہ کا آسٹریلوی ریڈیو کے ساتھ پوسٹ میچ انٹرویو شیڈول تھا۔واضح رہے کہ اس عمل کے باوجود کرکٹ آسٹریلیا عثمان خواجہ پر پابندی نہیں لگائے گا۔