مئی 1, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد ایران اور اسرائیل نے جنگ بندی کے نفاذ کا اعلان کردیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا وقت شروع ہوگیا ہے، ایران نے اسرائیل پر میزائیل حملوں کے بعد جنگ بندی کے نفاذ کا اعلان کردیا جبکہ نیتن یاہو نے بھی جنگ بندی کی تجویز قبول کرلی ہے، ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ کوئی فریق بھی سیز فائر کیخلاف ورزی نہ کرے۔ایک غیر متوقع اور ڈرامائی پیش رفت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان مکمل اور حتمی جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، جس کے تحت آئندہ 6 گھنٹوں میں دونوں ممالک اپنی عسکری کارروائیاں روک دیں گے۔ٹرمپ نے یہ دھماکہ خیز اعلان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر کیا، جہاں انہوں نے لکھا ’ مبارک ہو دنیا، ایران اور اسرائیل نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے‘۔ان کے مطابق جنگ بندی کے تحت ابتدائی طور پر ایران اپنے فوجی آپریشنز کو روکے گا، جبکہ اسرائیل بارہ گھنٹے بعد باضابطہ طور پر کارروائیاں بند کرے گا۔ 24 گھنٹے مکمل ہونے پر اس تاریخی جنگ بندی کو بین الاقوامی سطح پر 12 روزہ جنگ کے اختتام کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین سے کہا گیا ہے کہ وہ اس عبوری مدت میں پرامن اور باعزت رویہ اختیار کریں، تاکہ کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی سے بچا جا سکے۔انہوں نے اپنے پیغام میں جذباتی انداز اختیار کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ ایک ایسی جنگ تھی جو برسوں تک چل سکتی تھی، جو مشرقِ وسطیٰ کو مکمل تباہی کی طرف دھکیل دیتی، مگر ایسا نہیں ہوا اور نہ ہی اب ہوگا۔ٹرمپ نے دونوں ممالک کی قیادت کو ہمت، استقامت اور دانشمندی پر مبارکباد دی، اور کہا کہ دنیا ایک بڑے سانحے سے بچ گئی ہے۔امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کے معاہدے میں قطر نے اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔ذرائع کے مطابق قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے اس معاہدے کو طے کروانے میں براہ راست مداخلت کی۔برطانوی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق امریکی میڈیا سے گفتگو کرنے والے بعض نامعلوم حکام کے مطابق قطر نے اس وقت ثالثی کا کردار ادا کیا جب امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز ایران تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ان حکام کے مطابق قطری وزیر اعظم نے ایرانی حکام سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جو اُس وقت خاص طور پر اہمیت اختیار کر گیا جب ایران نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں، بشمول قطر میں موجود اڈے، کو نشانہ بنایا تھا۔تاہم ایران اور اسرائیل کی حکومتوں کی جانب سے تاحال اس مبینہ جنگ بندی کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے عسکری کارروائی کا حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اگر اسرائیل اپنی غیر قانونی جارحیت کو روکتا ہے، تو ایران بھی مزید جوابی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتا۔عراقچی نے اپنے پیغام میں واضح کیا جیسا کہ ایران متعدد بار واضح کر چکا ہے کہ جنگ کا آغاز اسرائیل نے کیا، نہ کہ ایران نے۔اس سے قبل ایران نے جوہری تنصیاب پر امریکی حملوں کے جواب میں قطر میں واقع امریکا کے سب سے بڑے فضائی اڈے العدید پر 6 میزائل داغ دیئے جب کہ عراق میں بھی امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ کے آسمان پر روشنی چک رہی ہے اور آگ کے شعلوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مختلف مقامات پر دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔ایسا ایران کے دوحہ میں واقع امریکی ایئر بیس پر میزائل حملے کی وجہ سے ہے۔ ایران نے کم از کم 6 میزائل داغے ہیں۔تاحال ان حملوں کی وجہ سے جانی اور مالی نقصان سے متعلق کوئی خبر موصول نہیں ہوئی نہ ہی ایران، امریکا، قطر کا ردعمل سامنے آیا ہے۔خیال رہے کہ چند گھنٹوں قبل ہی قطر نے فوری طور پر اپنی فضائی حدود کو غیر معینہ مدت تک بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔علاوہ ازیں قطر نے شہریوں کی زندگیوں کی حفاظت کے لیے اسکولوں میں چھٹی کا بھی اعلان کیا اور شہریوں کو بلاضرورت گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی تھی۔یاد رہے کہ کل شب امریکا کے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد ایران نے اسرائیل پر درجنوں بیلسٹک میزائل داغ دیے جن میں خیبر بھی شامل ہے۔تفصیلات کے مطابق ایران کے اسرائیل پر تازہ حملے میں ایک پاور پلانٹ تباہ ہوگیا اور متعدد علاقے تاریکی میں ڈوب گئے ہیں جبکہ دوسری جانب اسرائیل نے مختلف حملوں میں ایران کے 6 ہوائی اڈے اور متعدد طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔امریکا نے اپنے جدید ترین B-2 بمبار طیاروں کے ساتھ ایران کی تین جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان کو نشانہ بنایا ہے اور امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے حملے میں فردو کے ایٹمی پلانٹ کو مکمل تباہ کردیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی طیاروں نے ایران کی 3 ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر دیا ہے، امریکی طیاروں نے فردو، نطنز اور اصفہان میں واقع ایرانی نیوکلیئر تنصیبات پر حملہ کیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ میں حملے کے حوالے سے تفصیلات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے تین جوہری سائٹس پر کامیاب حملہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی فضائیہ نے ایران کے تین اہم جوہری مراکز پر کامیاب حملہ کیا، جس میں فردو، نطنز اور اصفہان کے جوہری سائٹس کو نشانہ بنایا گیا, حملے میں فردو ایٹمی پلانٹ مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔حملے کے دوران تمام طیارے ایران کی فضائی حدود سے باہر پہنچ چکے ہیں اور ان کی واپسی کا سفر کامیابی سے جاری ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ فردو جوہری مرکز پر بموں کا مکمل پے لوڈ گرایا گیا، جس سے اس اہم جوہری سائٹ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔امریکی صدر نے اس کارروائی کو دنیا کی سب سے پیشہ ورانہ اور کامیاب فضائی کارروائی قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ دنیا کے کسی بھی دوسرے فوجی ادارے کے پاس اس نوعیت کا آپریشن کرنے کی صلاحیت نہیں۔انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ ایک شاندار کامیابی ہے اور اس کا سہرا ہمارے بہادر امریکی فوجیوں کے سر ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم امن کی طرف قدم بڑھائیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران باز نہ آیا تو دوبارہ حملے کریں۔دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی حکام نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں ہر ایک امریکی شہری اور فوجی ہمارا ہدف ہیں، امریکی حملے پر ایران بھرپور جواب دینے کی تیاری کر رہا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نے حملے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا، جبکہ مبینہ طور پر اس حملے میں بی-2 بمبار طیارے استعمال کیے گئے ہیں جو کہ گزشتہ روز ہی مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈے پر پہنچا دیے گئے تھے۔ایران نے امریکی حملوں کے نتیجے میں فردو، نطنز اور اصفہان میں جوہری سائٹس پر ہونے والی بمباری کی پہلی بار سرکاری طور پر تصدیق کی ہے۔ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق صوبہ قُم کے کرائسس مینجمنٹ کے ترجمان مرتضیٰ حیدری نے بتایا کہ فردو جوہری مرکز کے ایک حصے پر فضائی حملہ ہوا ہے۔اس سے قبل ایران کے سرکاری ٹی وی پر ایران کے نائب سیاسی ڈائریکٹر حسن آبادی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان تینوں جوہری سائٹس کو حملے سے پہلے ہی خالی کرا لیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کی باتیں سچ ہیں لیکن ایران نے کوئی بڑا نقصان نہیں اٹھایا کیونکہ جوہری مواد پہلے ہی نکال لیا گیا تھا۔ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے اصفہان میں نیوکلیئر سائٹ کونشانہ بنایا ہے، تاہم اسرائیلی حملے کے نتیجے میں کسی خطرناک مواد کا کوئی اخراج نہیں ہورہا۔اصفہان کے نائب گورنر نے صوبے پر اسرائیلی حملوں کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کی ہیں۔ صوبائی اہلکار کا کہنا ہے کہ اصفہان پر اسرائیلی حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکی فضائی حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ان جارحانہ کارروائیوں کے خلاف پوری قوت سے مزاحمت کرے گا۔نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے بین الاقوامی قوانین کی سنگین اور بے مثال خلاف ورزی کی ہے۔ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا: "دنیا یہ نہ بھولے کہ سفارتی عمل کے دوران سب سے بڑی خیانت امریکا نے کی، جس نے اسرائیل کی جارحیت کی حمایت کر کے ایران کے خلاف خطرناک جنگ کا آغاز کیا۔”بیان میں مزید کہا گیا کہ: "یہ واضح ہو چکا ہے کہ امریکا کسی ضابطے، اخلاقیات یا عالمی اصولوں کا پابند نہیں۔ وہ ایک نسل کش اور قابض ریاست کے مقاصد کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔”ایرانی وزارت خارجہ نے زور دے کر کہا کہ: "اسلامی جمہوریہ ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے دفاع کے لیے پورے عزم اور طاقت کے ساتھ امریکی حملوں اور اس مجرمانہ ریاست کے خلاف مزاحمت کا حق رکھتا ہے۔”ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے حالیہ فضائی حملوں پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کاروائی بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس کے "ہمیشہ یاد رکھے جانے والے نتائج” ہوں گے۔عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا: "امریکہ، جو کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے، نے ایران کی پرامن نیوکلیئر تنصیبات پر حملہ کر کے اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور NPT کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔”انہوں نے کہا کہ آج صبح کے واقعات ناقابلِ برداشت، غیر قانونی اور مجرمانہ فعل ہیں، اور دنیا بھر کے تمام اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو اس خطرناک حرکت پر شدید تشویش ہونی چاہیے۔وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ: "ایران اپنی خودمختاری، مفادات اور عوام کے دفاع کے لیے تمام آپشنز محفوظ رکھتا ہے۔”یہ عراقچی کا امریکی حملوں کے بعد پہلا عوامی بیان ہے، جو عالمی سطح پر امریکہ کے اقدامات پر ردِعمل کے طور پر سامنے آیا ہے۔
ایران پر امریکی حملوں کے بعد تابکاری میں کوئی اضافہ نہیں، آئی اے ای اے کی تصدیق
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی فضائی حملوں کے باوجود تابکاری کی سطح معمول کے مطابق ہے اور کسی اضافے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ایجنسی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ فردو، نطنز اور اصفہان میں واقع جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران سے باہر کسی قسم کی تابکاری کے اخراج کی نشاندہی نہیں ہوئی۔IAEA کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے صورتحال کی مزید تفصیلات سامنے آئیں گی، ایران کی جوہری تنصیبات سے متعلق مکمل تجزیے فراہم کیے جائیں گے۔ادھر ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کے نائب سربراہ رضا کاردان نے بھی تصدیق کی کہ ان حملوں کے باوجود تابکاری یا جوہری آلودگی ریکارڈ نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی حفاظت کے لیے پہلے ہی تمام حفاظتی اقدامات نافذ کیے جا چکے تھے، اس لیے عوام کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔دوسری جانب کویت نے بھی اعلان کیا ہے کہ ایران پر حملوں کے بعد خلیجی ریاست میں تابکاری کی سطح میں کسی تبدیلی کی نشاندہی نہیں ہوئی۔ نیشنل گارڈ کے مطابق فضائی اور بحری حدود میں تابکاری کی سطح کا معائنہ کیا گیا، جو مکمل طور پر معمول کے مطابق رہی۔
ایران نے جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد اسرائیل پر جوابی میزائل برسادیے
ایران نے اپنی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد اسرائیل پر جوابی میزائل برسادیے، جس کے نتیجے میں تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس دھماکوں سے گونج اٹھے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ان حملوں میں اب تک 86 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ایرانی حکام کے مطابق حملوں میں اسرائیلی فوج کی 14 تنصیبات کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں سپورٹ بیسز، کمانڈ اور کنٹرول سینٹرز اور بائیولاجیکل ریسرچ سینٹرز شامل ہیں۔لانگ رینج میزائل سے ہونے والے حملوں کے بعد ایران نے دنیا کو ایک بار پھر فرنٹ پر کھڑے رہنے کا پیغام دیا ہے۔رائٹرز کے مطابق ایران نے امریکی کارروائی کے ردِ عمل میں تل ابیب اور بیت المقدس پر میزائل داغے، جن کی آوازیں شہر بھر میں سنائی دیں۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے 2 ایرانی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جنہیں اردن کی سرحد کے قریب روکا گیا۔
ایران پر حملہ کرنے والے جہازوں کے مقام کا پتہ لگالیا ہے، پاسداران انقلاب
پاسداران انقلاب کے بریگیڈیئر جنرل علی محمد نے دعویٰ کیا کہ ایران پر حملہ کرنے والے طیارے اس وقت کہاں ہیں پتا لگا لیا ہے اور انہیں کسی بھی وقت نشانہ بناسکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ابھی مزید خطرناک میزائل استعمال ہونا باقی ہیں، ہمارا آج کا حملہ سب سے کامیاب رہا، جس میں 14 فوجی اہداف نشانہ بنے۔