نومبر 4, 2026

سری لنکا کیخلاف ہوم ٹیسٹ سیریز کیلیے فاسٹ پچز تیار کرنے کا فیصلہ

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سری لنکا کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز کے لیے فاسٹ پچز تیار کرنے کا فیصلہ کرلیا۔تفصیلات کے مطابق ٹرائنگولر ون ڈے سیریز میں فتح کے بعد پاکستانی ٹیم کا اگلا امتحان اب سری لنکا سے ٹیسٹ سیریز ہے۔پہلا میچ 9 نومبر کو راولپنڈی میں شروع ہوگا جبکہ دوسرا ٹیسٹ 17 نومبر سے لاہور میں شیڈول ہے۔2026 ختم ہونے والا ہے اور حیران کن طور پر نومبر میں پاکستانی ٹیم ہوم گراؤنڈز پر پہلا ٹیسٹ کھیلے گی۔بیرون ملک تین سیریز کے 7 میچز میں واحد فتح ویسٹ انڈیز میں ملی تھی، اس ٹور کا آغاز شکست کے ساتھ ہی ہوا تھا، اس سے قبل بنگلادیش میں دونوں ٹیسٹ گنوائے جبکہ آخری سیریز میں انگلینڈ نے 0-3 سے مات دی تھی۔ذرائع نے بتایا کہ تھنک ٹینک نے اب ملک میں جاندار پچز بنانے پر اتفاق کر لیا ہے تاکہ بیرون ملک جد و جہد کا سلسلہ ختم ہو۔کوچ مائیک ہیسن نے سری لنکا سے دونوں ٹیسٹ میچز کیلیے فاسٹ ٹریکس بنانے کی ہدایت جاری کر دی، گراؤنڈز مین کوشش کر رہے ہیں کہ ایسی پچز بنائیں جہاں پیسرز کو مدد ملے۔سری لنکا کے خلاف سہ روزہ میچ کے بعد پی سی بی پیٹرنز الیون سے 2 فاسٹ بولرز قومی اسکواڈ میں شامل ہوں گے جبکہ محمد عباس اور رضا اللہ کی شمولیت یقینی نظر آ رہی ہے۔انگلینڈ کے خلاف آخری ٹیسٹ کی پلیئنگ الیون سے صائم ایوب، عبد اللہ شفیق، شان مسعود، محمد عمران اور محمد علی باہر ہو چکے ہیں، یوں کئی تبدیلیاں کرنا پڑیں گی۔شان مسعود نے برمنگھم ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 95 رنز بنائے تھے البتہ کوچ کا خیال ہے کہ 37 سالہ بیٹر کی جگہ اب کسی نوجوان کو آزمانا چاہیے، اوپننگ پیئر میں بھی تبدیلی کرنا پڑے گی، اذان اویس کے ساتھ عبد اللہ فضل فیورٹ ہیں۔ذرائع نے مزید بتایا کہ مائیک ہیسن نے بابر اعظم سے کہا تھا کہ انہیں فارم کی بحالی کیلیے ڈومیسٹک چار روزہ میچ میں حصہ لینا چاہیے، اسی لیے وہ ان دنوں قائد اعظم ٹرافی میں شریک ہیں۔پی سی بی کی جانب سے ڈومیسٹک مقابلوں میں شرکت کو لازمی قرار دینے کی وجہ سے بھی اب اسٹار پلیئرز نہ چاہتے ہوئے بھی ڈپارٹمنٹل اور ریجنز کی جانب سے کھیل رہے ہیں۔یاد رہے کہ آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں پاکستان کا 10 میں سے نواں نمبر ہے، اس کے بعد زمبابوے موجود ہے جبکہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں گرین کیپس سب سے آخری نویں درجے پر ہیں۔اگلی سائیکل میں پرفارمنس بہتر بنانے کیلیے پاکستان کرکٹ بورڈ کا تھنک ٹینک ابھی سے اقدامات کر رہا ہے، حکام کو امید ہے کہ نوجوان پلیئرز کی آمد سے ٹیم کی کارکردگی اچھی ہو جائے گی۔