امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے سیٹلائٹ تصاویر اور مختلف ذرائع کی مدد سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔خبر ایجنسی کے تجزیے کے مطابق ایران نے جنگ کے دوران پہلے امریکی فضائی دفاعی اور ریڈار نظاموں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد فوجی طیاروں، ہینگرز اور عمارتوں پر حملے کیے گئے۔اے پی کے مطابق جنگ شروع ہونے سے اگست تک ایران نے 115 سے زائد ڈرون اور میزائل حملے کیے، جن کے نتیجے میں خطے کے 26 فوجی اڈوں اور دیگر مقامات پر امریکی تنصیبات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوئیں۔ خبر ایجنسی نے مختلف سیٹلائٹ کمپنیوں کی تصاویر کا جائزہ لینے کے علاوہ خطے کے چار ایسے حکام سے بھی بات کی جو حملوں کے نقصانات سے واقف تھے۔اے پی کے تجزیے کے مطابق ایران نے سب سے زیادہ حملے کویت میں قائم امریکی فوجی تنصیبات پر کیے۔ کویت کے علی السالم ایئر بیس کو کم از کم 30 مرتبہ نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 15 طیاروں کے ہینگرز، متعدد گوداموں اور رہائشی علاقے کے قریب 10 عمارتوں کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوگئیں۔کویت کے کیمپ بوہرنگ کو بھی شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جہاں بیشتر طیاروں کے ہینگرز ناقابلِ استعمال ہوگئے۔ یکم مارچ کو کویت کے پورٹ شعیبہ میں ڈرون حملے کے نتیجے میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ اے پی کے مطابق یہ جنگ کے دوران امریکی فوجیوں پر ہونے والا سب سے ہلاکت خیز معلوم حملہ تھا۔رپورٹ کے مطابق ایران نے کویت کے علاوہ بحرین، عراق، اردن، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس اور اردن کے موفق السلطی ایئر بیس پر نصب موبائل ریڈار نظاموں کو حملوں میں نقصان پہنچا۔ اے پی کی جاری کردہ تصاویر کے مطابق مارچ میں پرنس سلطان ایئر بیس پر حملے کے دوران امریکی بوئنگ ای تھری سینٹری نگرانی کرنے والے طیارے کا پچھلا حصہ بھی تباہ ہوا۔بحرین میں امریکی بحریہ کے نیول سپورٹ ایکٹیویٹی مرکز اور قطر میں بھی ریڈار نظاموں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں ابوظہبی کے قریب واقع الظفرہ ایئر بیس بھی جنگ کے ابتدائی دنوں میں بار بار حملوں کی زد میں آیا۔اے پی کے مطابق خطے کے دو حکام نے بتایا کہ امریکا نے حملوں کے بعد اپنے متعدد فوجی اثاثے خلیجی علاقے سے دوسری جگہ منتقل کردیے۔ ان میں طیارے، فضائی دفاعی اور مواصلاتی نظام سمیت فوجی اڈوں کو فعال رکھنے کے لیے ضروری سازوسامان شامل ہے۔کانگریشنل ریسرچ سروس کی اکتوبر میں اپ ڈیٹ ہونے والی رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر مجموعی طور پر 15 امریکی طیاروں کو نقصان پہنچا۔دفاعی امور کے ماہر رافیل کوہن کے مطابق کم لاگت ڈرونز کے بڑے پیمانے پر حملے جدید فوجی طاقتوں کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک اہم انتباہ ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی حکام کی درخواست پر امریکا کے ساتھ معاہدے رکھنے والی بڑی سیٹلائٹ کمپنیوں نے بعض تصاویر کی عوامی اشاعت روک دی یا مؤخر کردی۔ امریکی حکام نے ان تصاویر کی اشاعت کو بعض مواقع پر قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔




