اکتوبر 28, 2026

وزن کم کرنے والی ادویات کے استعمال سے غذائی اجزا کی کمی کا خدشہ

وزن کم کرنے اور ذیابیطس کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی جی ایل پی-1 ادویات کے استعمال سے جسم میں اہم غذائی اجزا کی کمی کا خدشہ سامنے آیا ہے، جو مریضوں کی مجموعی صحت کو متاثر کر سکتی ہے۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق امریکا میں تقریباً تین کروڑ افراد وزن کم کرنے اور ذیابیطس پر قابو پانے کے لیے یہ ادویات استعمال کر رہے ہیں۔ ان ادویات کے انجیکشن بھوک کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بہت سے افراد نمایاں وزن کم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ تاہم، ان کے استعمال کے ساتھ غذائیت سے متعلق مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔ہارورڈ ٹی ایچ چین اسکول آف پبلک ہیلتھ اور یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کے محققین کی جانب سے متعدد مطالعات کے جائزے میں بتایا گیا کہ جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرنے والے افراد میں وٹامن بی 12، پروٹین اور فائبر کی کمی کا خطرہ ہو سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق وٹامن بی 12 اعصابی نظام کی صحت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ پروٹین پٹھوں اور جسمانی اعضا کی مرمت میں اہم کردار ادا کرتا ہے جبکہ فائبر نظامِ ہاضمہ کو درست رکھنے میں مدد دیتا ہے۔محققین نے خبردار کیا کہ ان ادویات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر علاج کے ساتھ مناسب غذائیت کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ان کے مطابق لاکھوں مریضوں کو جی ایل پی-1 ادویات تجویز کی جا رہی ہیں اس لیے علاج کے دوران غذائی ضروریات پر توجہ دینا اب فوری اہمیت اختیار کر چکا ہے۔دوسری جانب اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین کے مطابق امریکا میں تقریباً ایک کروڑ افراد وٹامن بی 12 کی مطلوبہ مقدار حاصل نہیں کر رہے۔ماہرین کے مطابق وزن کم کرنے والی ادویات استعمال کرنے والے افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی خوراک میں مناسب غذائی اجزا شامل رکھنے پر توجہ دیں اور غذائی کمی کے خدشے کی صورت میں طبی ماہر سے مشورہ کریں۔