فرانس کے محکمہ صحت نے شمونڈا وائرس سے انسان کے متاثر ہونے کے پہلے معلوم کیس کی تصدیق کی ہے۔ یہ وائرس مچھروں سے مشابہ چھوٹے کیڑوں کے ذریعے پھیلتا ہے اور رواں موسمِ گرما سے فرانس سمیت یورپ کے مختلف علاقوں میں مویشیوں کو تیزی سے متاثر کر رہا ہے۔فرانس کے قومی ادارہ صحت عامہ سانتے پوبلیک فرانس کے مطابق حکام کو 7 اکتوبر کو لیون کے اسپتال میں زیرِ علاج ایک مریض کے متاثر ہونے کی اطلاع ملی تھی، جو پہلے ہی اعصابی بیماری میں مبتلا اور اس کا مدافعتی نظام شدید کمزور تھا۔ بعد ازاں مریض کی موت ہوگئی جبکہ مختلف حیاتیاتی نمونوں کے ٹیسٹ میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔حکام کا کہنا ہے کہ اب تک انسان سے انسان میں وائرس کی منتقلی یا عام آبادی کو لاحق کسی خطرے کے شواہد نہیں ملے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق امکان ہے کہ مریض کو کولی کوائیڈز نامی متاثرہ چھوٹے کیڑے نے کاٹا تھا۔حکام مریض کے ماحول، سفر اور جانوروں سے ممکنہ رابطے کا جائزہ لے رہے ہیں۔اقوام متحدہ کی خبر رساں سروس کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کے طریقہ کار کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔ادارے کے سربراہ ٹیڈروس گیبریسس نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت فرانسیسی حکام کے ساتھ مل کر مریض کے متاثر ہونے کی وجہ اور صحتِ عامہ کو لاحق ممکنہ خطرات کا تعین کر رہا ہے۔شمونڈا وائرس کا تعلق آرتھوبونیا وائرس گروپ سے ہے اور اس کی پہلی شناخت 1960 کی دہائی میں نائجیریا میں ہوئی تھی۔ اس سے قبل خیال کیا جاتا تھا کہ یہ وائرس انسانوں میں منتقل نہیں ہو سکتا۔فرانسیسی حکام کے مطابق اس کیس کا سامنے آنا مریض کی غیر معمولی طبی حالت اور لیون کے اسپتال میں کی جانے والی تفصیلی جانچ کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔




