اکتوبر 14, 2026

حوثیوں کی چینی پرزوں سے جدید بیلسٹک میزائل بنانے کی کوشش، سعودی عرب اور اسرائیل نشانے پر آسکتے ہیں

یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے جدید بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی کوششوں کا انکشاف ہوا ہے۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق حوثی جنگجو چین سے فراہم کردہ پرزوں کی مدد سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا میزائل بنانے کی کوشش کررہے ہیں، جس سے خطے میں ان کی فوجی صلاحیت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسلحے کی ترسیل اور تنازعات میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کا جائزہ لینے والے ادارے کانفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ حوثیوں نے ایک چینی سپلائر سے ایسے مختلف پرزے حاصل کیے جو ایران کے جدید اور طاقتور میزائلوں میں سے ایک، ’’خیبر شکن‘‘، کی طرز پر میزائل تیار کرنے میں استعمال ہوسکتے ہیں۔خیبر شکن ایران کا درست نشانہ لگانے کی صلاحیت رکھنے والا بیلسٹک میزائل ہے۔ رپورٹ کے مطابق حوثیوں کی جانب سے تیار کیے جانے والے مجوزہ میزائل کی رینج تقریباً 1,200 میل، یعنی لگ بھگ 1,930 کلومیٹر تک ہوسکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر حوثی گروپ اس فاصلے تک مار کرنے والا میزائل تیار کرنے میں کامیاب ہوگیا تو سعودی عرب کا پورا علاقہ اور اسرائیل بھی اس کی ممکنہ رینج میں آسکتے ہیں۔ اس پیش رفت سے ایران کے حمایت یافتہ گروپ کی فوجی صلاحیت اور مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی خدشات بڑھنے کا امکان ہے۔اس رپورٹ کا اہم پہلو یہ ہے کہ حوثی گروپ جدید میزائل کی تیاری کے لیے بیرونی پرزے استعمال کرتے ہوئے اپنی مقامی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ میزائل کی تیاری کس مرحلے میں ہے یا اس کا کامیاب تجربہ کیا جاچکا ہے یا نہیں۔تاحال اس رپورٹ میں چین کی حکومت کی جانب سے ان پرزوں کی فراہمی میں کسی سرکاری کردار کی تصدیق نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں چینی سپلائر کا ذکر کیا گیا ہے، جسے چین کی حکومت کی براہ راست معاونت کے برابر نہیں سمجھا جاسکتا۔