اکتوبر 12, 2026

بچوں میں موٹاپے کی روک تھام کے لیے میٹھے مشروبات کم کرنا مؤثر قرار

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بچوں کی خوراک میں صرف ایک تبدیلی، یعنی میٹھے مشروبات کا استعمال کم کرکے پانی پینے کی عادت اپنانے سے موٹاپے پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔بوسٹن یونیورسٹی اسکول آف پبلک ہیلتھ کے محققین کی سربراہی میں ہونے والی تحقیق کے مطابق میٹھے مشروبات کا استعمال کم کرنے کے پروگرام میں شامل بچوں کے باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) میں 12 ماہ کے دوران، دیگر بچوں کے مقابلے میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔یہ پروگرام امریکی ریاست میساچوسٹس کے مختلف کمیونٹی مراکز میں منعقد کیا گیا جہاں بچوں کو تعلیمی سرگرمیوں، کہانیوں اور عملی مشقوں کے ذریعے میٹھے مشروبات سے گریز اور پانی پینے کی ترغیب دی گئی۔محققین کے مطابق سافٹ ڈرنکس، میٹھے پھلوں کے مشروبات اور انرجی ڈرنکس بچوں کی خوراک میں اضافی شکر کے بڑے ذرائع ہیں۔ ان مشروبات میں موجود کیلوریز پیٹ بھرنے کا احساس نہیں دلاتیں، جس سے مجموعی کیلوریز کی مقدار بڑھ سکتی ہے اور وزن میں اضافے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔تحقیق میں خبردار کیا گیا کہ میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال بچوں میں ٹائپ ٹو ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور دانتوں کی خرابی کے خطرات بھی بڑھا سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق بچوں کو میٹھے مشروبات کی جگہ پانی پینے کی عادت ڈالنا بچپن کے موٹاپے کی روک تھام کے لیے ایک آسان اور قابلِ عمل حکمتِ عملی ثابت ہو سکتی ہے۔یہ تحقیق سائنسی جرنل جاما نیٹورک اوپن میں شائع ہوئی۔