اگست 31, 2026

ایران کی امریکا کے نئے حملوں کی شدید مذمت، اردن میں امریکی اڈوں پر کارروائی کو دفاعی حق قرار دے دیا

تہران: ایران نے اپنے جزیرے لارک پر امریکا کے تازہ فوجی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اردن میں امریکی اڈوں پر ایرانی فورسز کی کارروائی کو جائز دفاع قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ نے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا کہ ایران امریکا کی جانب سے جزیرہ لارک پر کی جانے والی فوجی کارروائی کی ’سخت مذمت‘ کرتا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی حملے کے جواب میں ایرانی فورسز نے اپنے دفاع کے فطری اور قانونی حق کے تحت کارروائی کی۔ تہران کا کہنا ہے کہ اردن میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کیے گئے حملوں کے جواب میں کیا گیا۔ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ دنوں میں فوجی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ امریکا نے ایران کے جزیرہ لارک پر حملہ کیا، جس کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے خلاف جوابی کارروائی کی۔ایرانی حکومت کا مؤقف ہے کہ اسے اپنی سرزمین اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے دفاعی اقدامات کا حق حاصل ہے۔ تہران نے امریکی کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایسے حملوں کے جواب میں اپنی دفاعی صلاحیت استعمال کرتا رہے گا۔ سرکاریخدمات اور معلومات تک رسائیدوسری جانب امریکا نے ایران کے خلاف اپنی کارروائیوں کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے اقدامات کا مقصد آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز کی جانب سے مبینہ طور پر بارودی سرنگیں بچھانے کے خطرے کو روکنا اور تجارتی جہازوں کی حفاظت کرنا تھا۔تازہ واقعات کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی سطح پر اہم ہے کیونکہ یہ عالمی توانائی اور تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ایران کی جانب سے اردن میں امریکی اڈوں پر کارروائی کو ’’جائز دفاع‘‘ قرار دینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں اپنی جوابی کارروائیوں کو جاری رکھنے کا عندیہ دے رہا ہے۔