چین میں ہونے والی ایک ابتدائی طبی تحقیق نے ہارٹ فیلیئر کے مریضوں کے علاج کے حوالے سے نئی امید پیدا کردی ہے۔نانجنگ ڈرم ٹاور اسپتال کے محققین کے مطابق ایک نئی اسٹیم سیل تھراپی سے کلینیکل ٹرائل میں شامل 10 میں سے نو مریضوں کے دل کے افعال میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔دل کی ناکامی کے شکار افراد کو عموماً سانس لینے میں دشواری، شدید تھکن، ٹانگوں میں سوجن، تیزی سے وزن بڑھنے اور مسلسل کھانسی جیسی علامات کا سامنا ہوتا ہے۔موجودہ حالات میں شدید کیسز کے لیے دل کی پیوند کاری ایک مؤثر علاج ہے۔ تاہم، عطیہ کیے گئے دلوں کی شدید قلت کے باعث ہر مریض کو یہ سہولت میسر نہیں آتی۔تحقیق میں شامل مریضوں کے اپنے جسم کے خلیوں کو پہلے خصوصی طریقے سے تبدیل کرکے ’انڈیوسڈ پلوری پوٹنٹ اسٹیم سیلز‘ (آئی پی ایس سیز) میں تبدیل کیا گیا۔ان اسٹیم سیلز کو بعد ازاں دل کے پٹھوں کے مخصوص خلیوں میں تبدیل کیا گیا اور انہیں مریضوں کے متاثرہ دل کے حصوں میں انجیکٹ کیا گیا۔محققین کے مطابق اس طریقہ علاج کا مقصد خراب شدہ دل کے ٹشوز کی بحالی، نئے دل کے پٹھوں کے خلیوں کی نشوونما اور دل کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔تحقیق میں یہ بھی اشارہ ملا کہ یہ طریقہ دل کے پٹھوں کی عمر سے متعلق کمزوری کے عمل کو سست کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق نتائج حوصلہ افزا ضرور ہیں لیکن یہ ایک انتہائی ابتدائی مرحلے کا صرف 10 مریضوں پر مشتمل ٹرائل تھا۔ اس لیے بڑے پیمانے پر مزید کلینیکل ٹرائلز اور طویل مدتی تحقیق کے بغیر اسے دل کی ناکامی کا ثابت شدہ یا عام دستیاب علاج قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔




