تہران: ایران کی فوج نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی حملے شروع کیے تو مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا اسرائیل کے مؤقف کے تحت دوبارہ ایران پر فضائی حملے کرتا ہے یا جنگ جاری رکھنے پر اصرار کرتا ہے تو اس کے نتائج پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ایران کا مؤقف واضح ہے اور اگر امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو موجودہ تنازع صرف ایک محدود علاقے تک نہیں رہے گا بلکہ اس کا جغرافیائی دائرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔محمد اکرمینیا کا کہنا تھا کہ امریکا کو اسرائیل کی پالیسیوں سے متاثر ہو کر کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے جو خطے میں مزید کشیدگی کا سبب بنے۔ایرانی فوج کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دورۂ واشنگٹن کی تیاریاں جاری ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس دوران امریکا اور اسرائیل کی قیادت خطے کی سکیورٹی صورتحال، ایران سے متعلق پالیسی اور جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال کرے گی۔ادھر مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ کئی ممالک مسلسل سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے اور مزید فوجی تصادم سے بچنے پر زور دے رہے ہیں۔ دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوئیں تو اس کے اثرات خلیجی خطے، عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔




