اگر آپ نے کبھی یہ محسوس کیا ہو کہ صرف چند منٹ کے لیے موبائل فون اٹھایا تھا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ایک گھنٹہ گزر گیا، تو ماہرین کے مطابق یہ محض اتفاق نہیں بلکہ اس کے پیچھے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا مخصوص ڈیزائن اور انسانی دماغ کی نفسیات کارفرما ہوتی ہے۔تحقیقی جائزوں کے مطابق سوشل میڈیا ایپس کو اس انداز میں تیار کیا جاتا ہے کہ صارف زیادہ سے زیادہ وقت اسکرین پر گزارے۔ نئی پوسٹس، ویڈیوز اور مواد کی مسلسل فراہمی صارف کو بار بار اسکرول کرنے پر آمادہ رکھتی ہے، جس سے یہ عادت رفتہ رفتہ مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل پر مسلسل اسکرولنگ دماغ میں موجود ڈوپامائن نامی کیمیکل کو متحرک کرتی ہے، جو خوشی، دلچسپی اور کسی نئے انعام کی توقع سے وابستہ ہوتا ہے۔ ہر نئی پوسٹ کے ساتھ صارف کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آگے کیا دیکھنے کو ملے گا، یہی غیر یقینی کیفیت دماغ کو مزید مواد دیکھنے پر مائل رکھتی ہے۔اسی وجہ سے ماہرین سوشل میڈیا کے اس نظام کو جوئے کی سلاٹ مشین سے تشبیہ دیتے ہیں، جہاں ہر نئی کوشش کسی ممکنہ انعام کی امید پیدا کرتی ہے۔ یہی نفسیاتی عمل صارف کو اسکرین سے الگ ہونے نہیں دیتا۔
توجہ، یادداشت اور ذہنی صحت پر اثرات
تحقیقات کے مطابق سوشل میڈیا فیڈ کا کوئی واضح اختتام نہیں ہوتا، اس لیے صارف کو قدرتی طور پر رکنے یا وقفہ لینے کا موقع نہیں ملتا، جبکہ کتاب یا ٹی وی پروگرام ختم ہونے پر انسان خود بخود اگلے مرحلے کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ اسکرولنگ طویل مدت میں توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت کم کر سکتی ہے، یادداشت کو متاثر کر سکتی ہے اور گہرائی سے مطالعہ یا کسی ایک کام پر مسلسل توجہ دینا مشکل بنا سکتی ہے۔ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مسلسل اسکرولنگ ذہنی دباؤ، بے چینی، مایوسی اور جذباتی تھکن میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ذہنی دباؤ کا شکار فرد سکون کی تلاش میں مزید سوشل میڈیا استعمال کرتا ہے، لیکن منفی یا پریشان کن مواد اس کی کیفیت کو بہتر بنانے کے بجائے مزید خراب کر دیتا ہے۔تاہم ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ سوشل میڈیا براہِ راست دماغ کو تباہ کر دیتا ہے، البتہ مسلسل دہرائی جانے والی عادتیں دماغ کے کام کرنے کے انداز پر ضرور اثر انداز ہوتی ہیں اور وقت کے ساتھ یہ رویے مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔
احتیاطی تجاویز
ماہرین ذہنی صحت کو بہتر رکھنے کے لیے مشورہ دیتے ہیں کہ روزانہ اسکرین ٹائم کو محدود رکھا جائے، موبائل استعمال کے دوران وقفے لیے جائیں اور روزمرہ زندگی میں مطالعہ، جسمانی ورزش اور اہلِ خانہ و دوستوں کے ساتھ براہِ راست سماجی سرگرمیوں کو بھی مناسب وقت دیا جائے، تاکہ دماغ متوازن انداز میں کام کرتا رہے اور غیر ضروری اسکرولنگ کی عادت پر قابو پایا جا سکے۔




