ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ دل کو مضبوط اور صحت مند رکھنے کے لیے روز مرہ غذائی عادات پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے، کیونکہ بظاہر صحت بخش نظر آنے والی کئی غذائیں بھی طویل مدت میں دل کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ماہرِ امراضِ قلب کے مطابق روز مرہ کی خوراک کا انتخاب امراضِ قلب، ہارٹ اٹیک اور فالج سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
پروٹین ڈرنکس:
حالیہ برسوں میں پروٹین شیکس، اسموتھیز، دہی اور اسنیک بارز سمیت پروٹین سے بھرپور مصنوعات کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم ڈاکٹرز کے مطابق مارکیٹ میں دستیاب بیشتر تیار شدہ پروٹین ڈرنکس انتہائی پراسیس شدہ ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا ہے کہ کئی پروٹین شیکس میں فی سرونگ 20 گرام سے زائد اضافی چینی شامل ہوتی ہے، جو ایک سافٹ ڈرنک کے برابر ہو سکتی ہے جبکہ کم چینی والی مصنوعات میں اکثر مصنوعی مٹھاس استعمال کی جاتی ہے، جو آنتوں کے مفید بیکٹیریا کو متاثر کرنے کے ساتھ میٹھی اشیاء کھانے کی خواہش بھی بڑھا سکتی ہے۔ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ پیک شدہ پروٹین کو ڈرنکس کے بجائے پروٹین قدرتی غذاؤں جیسے لوبیا، دالیں اور چنوں سے حاصل کیا جائے، کیونکہ یہ پروٹین کے ساتھ فائبر، اینٹی آکسیڈنٹس اور دیگر مفید غذائی اجزاء بھی فراہم کرتی ہیں، جو شریانوں میں چکنائی جمع ہونے سے بچانے اور دل کی صحت برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
گرینولا
گرینولا کو عام طور پر صحت بخش ناشتے یا اسنیک کے طور پر دیکھا جاتا ہے، خصوصاً وہ مصنوعات جو ہائی پروٹین ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں دستیاب کئی گرینولا مصنوعات میں اضافی چینی اور غیر صحت بخش چکنائیاں بڑی مقدار میں شامل ہوتی ہیں۔اس کے علاوہ زیادہ پراسیسنگ کے باعث جو اور باجرے جیسے اجزاء میں موجود فائبر کی مقدار بھی کم ہو جاتی ہے۔ڈاکٹرز کے مطابق فائبر کولیسٹرول کم کرنے، بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے اور جسم میں سوزش کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے کم فائبر والی مصنوعات اپنی غذائی افادیت کھو دیتی ہیں۔انہوں نے مشورہ دیا ہے کہ خریداری سے پہلے اجزاء کی فہرست ضرور پڑھیں اور کم سے کم پراسیس شدہ غذاؤں کا انتخاب کریں، گھر میں کم چینی اور کم تیل کے ساتھ تیار کیا گیا گرینولا زیادہ صحت بخش انتخاب ہے۔
ناریل کا تیل
اگرچہ ناریل کے تیل کو قدرتی اور پودوں سے حاصل ہونے والی صحت بخش چکنائی سمجھا جاتا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق یہ دل کی صحت کے لیے ہمیشہ بہترین انتخاب نہیں ہوتا۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اکثر مریضوں میں ایل ڈی ایل (خراب کولیسٹرول) کی سطح زیادہ ہوتی ہے، جو شریانوں میں جمع ہو کر انہیں تنگ کر دیتا ہے اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ناریل کا تیل انرجی بارز، بیکری مصنوعات، پاپ کارن، چپس اور دیگر پیک شدہ اسنیکس میں بھی عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جس سے غیر محسوس انداز میں سیر شدہ چکنائی کی زیادہ مقدار جسم میں جا سکتی ہے۔
معمولی تبدیلیاں، بڑے فوائد
ماہرین نے زور دیا ہے کہ دل کی اچھی صحت کسی وقتی کوشش کے بجائے روز مرہ کی مستقل عادات سے حاصل ہوتی ہے۔ان کے مطابق روزانہ جسمانی سرگرمی اختیار کرنا، غذائی لیبل پڑھنے کی عادت اپنانا، کم سے کم پراسیس شدہ قدرتی غذائیں استعمال کرنا اور اضافی چینی و سیر شدہ چکنائی کی مقدار محدود رکھنا طویل مدت میں دل کی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ماہرینِ صحت نے مشورہ دیا ہے کہ دن بھر مناسب مقدار میں پانی پینا نمک کی خواہش کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور مجموعی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ماہرین کے مطابق پھلوں، سبزیوں، دالوں، ثابت اناج، خشک میوہ جات اور کم چکنائی والے پروٹین پر مشتمل متوازن غذا اپنانا دل کو طویل عرصے تک صحت مند رکھنے کے مؤثر ترین طریقوں میں شامل ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔




