برسلز: یورپی یونین کی فضائی تحفظ کی ایجنسی نے ایئرلائنز کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فی الحال ایران، عراق اور لبنان کی فضائی حدود میں پروازیں چلانے سے گریز کریں، جبکہ خلیجی اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی دیگر ممالک میں پروازوں کے دوران بھی خصوصی احتیاط برتی جائے۔ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ ہدایت میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے طے پانے والی 60 روزہ مفاہمتی یادداشت کے بعد خطے کی سکیورٹی صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور کسی بھی وقت حالات دوبارہ خراب ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ای اے ایس اے نے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عمان، قطر، بحرین، کویت، اردن اور اسرائیل کے فضائی آپریشنز کے حوالے سے بھی ایئرلائنز کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ایجنسی کے مطابق خطے میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا امکان اب بھی موجود ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز کے اطراف کسی بھی اچانک کشیدگی کے باعث فضائی اور بحری نقل و حمل متاثر ہو سکتی ہے۔یورپی ادارے نے فضائی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ مسلسل سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیں، خطرات کا تازہ تجزیہ تیار رکھیں اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے متبادل منصوبے بھی تیار رکھیں۔ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ سفارتی پیش رفت کے باوجود علاقائی صورتحال ابھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوئی، جس کے باعث بین الاقوامی فضائی ادارے احتیاطی تدابیر برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی حدود سے متعلق ایسی ہدایات عالمی مسافروں، ایئرلائنز اور کارگو آپریٹرز کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے جاری کی جاتی ہیں اور ان کا مقصد ممکنہ خطرات سے قبل تیاری کرنا ہوتا ہے۔




