جون 22, 2026

حج 2027ء کی رجسٹریشن کا آغاز؛  سرکاری و نجی اسکیموں کی تفصیلات سامنے آ گئیں

اسلام آباد:حج 2027ء کی رجسٹریشن کا آج باقاعدہ آغاز کردیا گیا ہے،ا س حوالے سے سرکاری اور نجی اسکیموں کی تفصیلات سامنے آگئیں۔حج رجسٹریشن 2027 کی لانچنگ تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ قومی آئی ٹی بورڈ کے تعاون سے حج کے نظام کو ڈیجیٹائز کر دیا گیا ہے ۔ حج 2027 کے لیے رجسٹریشن کا باقاعدہ آغاز آج سے کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حج کے نظام کو مزید شفاف بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عازمین کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ حج 2027 کی رجسٹریشن مکمل طور پر مفت ہوگی اور اس کے لیے کسی قسم کی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن پہلے آئیے، پہلے پائیے کی بنیاد پر کی جائے گی جبکہ سرکاری اور نجی دونوں حج اسکیموں کے لیے رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ رجسٹریشن کے بغیر کوئی بھی شخص حج 2027 کے لیے درخواست جمع نہیں کرا سکے گا۔سردار محمد یوسف نے کہا کہ حج 2027 کے خواہشمند افراد کے لیے کارآمد پاسپورٹ لازمی ہوگا اور پاسپورٹ کی میعاد کم از کم 26 نومبر 2027 تک مؤثر ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ہی خاندان کے افراد مشترکہ طور پر رجسٹریشن کرا سکیں گے جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی دنیا کے کسی بھی ملک سے اپنی رجسٹریشن مکمل کروا سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ حج رجسٹریشن ملک بھر کے مقررہ بینکوں کے ذریعے کرائی جا سکے گی جبکہ عازمین گھر بیٹھے آن لائن بھی رجسٹریشن کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔وزارت مذہبی امور نے حج 2027 کی رجسٹریشن کا باقاعدہ شیڈول بھی جاری کر دیا ہے اور رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد ہی سرکاری یا نجی حج اسکیم کا انتخاب ممکن ہوگا۔ انہوں نے خواہشمند عازمین کو ہدایت کی کہ وہ بروقت رجسٹریشن مکمل کریں۔وفاقی وزیر مذہبی امور نے حج 2026 کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال کا حج کامیاب ترین حج رہا ۔ پاکستانی عازمین انتظامات سے بہت مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی تمام ہدایات پر مکمل عملدرآمد کیا گیا جبکہ سعودی عرب نے بھی بہترین انتظامات کیے۔ پاکستان میں سعودی سفیر نے بھی اس سلسلے میں بھرپور تعاون کیا۔سردار محمد یوسف نے بتایا کہ لاہور سے روڈ ٹو مکہ اسکیم کا آغاز بھی کیا گیا جس سے 80 فیصد پاکستانی عازمین مستفید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال عازمین کی جانب سے ایک فیصد سے بھی کم شکایات موصول ہوئیں، جو انتظامات پر اعتماد کا مظہر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزارت رواں سال حج ادا کرنے والے پاکستانی عازمین کو رقوم کی واپسی کے لیے تخمینہ لگا رہی ہے اور 2026 میں حج کرنے والے پاکستانی حاجیوں کو کچھ رقم واپس کی جائے گی۔ یہ وزارت کی روایت رہی ہے کہ ہر سال بچ جانے والی رقم کا ایک حصہ عازمین کو واپس کیا جاتا ہے۔وفاقی وزیر مذہبی امور نے کہا کہ پاکستان کی مسلم آبادی 23 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، اس لیے سعودی عرب کی حکومت سے حج کوٹہ بڑھانے کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اب کم از کم 2 لاکھ 30 ہزار افراد کا حج کوٹہ ملنا چاہیے۔