آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کی صدارتی ریفرنس 1 (2026ء) پر دی گئی رائے نے مہاجر نشستوں کے معاملے پر حکومت کے مؤقف کو درست ثابت کر دیا اوراحتجاجی سیاست مسترد کر دی۔صدر آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے حکومت کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل 46-A کے تحت صدارتی ریفرنس دائر کیا گیا۔آزاد جموں کشمیر سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس 1 (2026ء) کے مطابق قرار دیا کہ 12 مہاجر نشستیں آرٹیکل 22 کے تحت آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں انتظامی فیصلے سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا، مہاجر نشستوں کی تاریخی بنیاد 1960، 1964، 1970 کے قوانین، عبوری آئینی انتظامات، 1974 کے آئین اور 1975 کے ایکٹ سے جڑی ہوئی ہیں۔*آزاد جموں کشمیر سپریم کورٹ کے مطابق مہاجر نشستوں میں کسی بھی تبدیلی کے لیے *آرٹیکل 33* کے تحت آئینی ترمیم ناگزیر ہے، آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ آزاد کشمیر میں فیصلہ کن قوت سڑکوں پر احتجاج نہیں بلکہ آئین کی بالادستی ہے۔سپریم کورٹ نے حکومت کے اس فیصلے کی توثیق کی کہ باقی ماندہ آئینی معاملات منتخب اسمبلی کے سپرد کیے جائیں، عدالت نے واضح کیا ہے کہ آئینی ترمیم عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بحث اور آئینی طریقۂ کار سے ہی ممکن ہے۔آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے کہا کہ آرٹیکل 22(4)* کے تحت انتخابات کا بروقت انعقاد لازمی ہے، احتجاج یا سیاسی تنازعہ اس میں رکاوٹ نہیں بن سکتا، آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے آرٹیکل 22(3) اور 22(4) کی تشریح کرتے ہوئے اسمبلی کے اختیارات اور مدت کو واضح کیا ہے۔آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے کہا کہ انتخابات کے انعقاد اور امن و امان کے تحفظ کی آئینی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے، پرامن احتجاج آئینی حق ہے، لیکن سڑکوں کی بندش، دھونس اور معمولاتِ زندگی میں خلل آئینی تحفظ حاصل نہیں کرتے۔آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے مطابق کسی فرد کے حقوق کا استعمال دوسرے شہریوں کے حقوق سلب کرنے کا جواز نہیں بن سکتا، انتظامیہ عوامی امن، آئینی نظم اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کی پابند ہے۔ماہرین کے مطابق عدالتی رائے نے انتخابات اور ریاستی اداروں میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی بنیاد کو مزید مضبوط کر دیا ہے، آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ آئینی تبدیلی کا راستہ اسمبلی اور ووٹ ہے، دباؤ اور محاذ آرائی نہیں۔ماہرین نے کہا کہ باقی ماندہ دو مطالبات پر حکومت کا مؤقف درست ثابت ہوا، آئینی مسائل کا حل صرف آئینی طریقۂ کار سے ہی ممکن ہے، آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کی رائے نے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور ریاست کے امن و استحکام کے تحفظ کے مؤقف کو تقویت دی۔




