مئی 30, 2026

فلسطین کو تسلیم کرنے تک ابراہیمی معاہدے پر کوئی لچک نہیں دکھائیں گے، اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ ابراہیمی معاہدے سے متعلق افواہیں گردش کر رہی ہیں لیکن پاکستان فلسطین کے معاملے پر اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے اور فلسطین کو تسلیم کیے جانے تک ابراہیمی معاہدے پر کوئی لچک نہیں دکھائی جائےگی۔واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ جب تک 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق اور القدس الشریف کو دارالحکومت بنا کر فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا جاتا، اس وقت تک پاکستان اپنے موقف میں کسی قسم کی لچک نہیں دکھائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا معمارہے اور عالمی سطح پر ایران امریکا مذاکرات میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے امریکا اور ایران کو تقریباً 47 سال بعد مذاکرات کی میز پر لانے اور ابتدائی رابطوں میں اہم کردار ادا کیا۔اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان کو عالمی سطح پر نئی شناخت ملی ہے اور بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں پاکستانی سفیر اور دفتر خارجہ کے دیگر حکام بھی موجود تھے۔فلسطین اور کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت ملنا چاہیے اور پاکستان دونوں مسائل پر اپنے مؤقف پر ثابت قدم ہے۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے بعد مسلم ممالک، بشمول سعودی عرب، قطر اور پاکستان کو ابراہیمی معاہدے کا حصہ بننا چاہیے۔