اسرائیل نے غزہ میں جنگ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے فلسطینی مزاحمتی گروہوں سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ دوسری جانب فلسطینی دھڑوں نے اس شرط کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی دباؤ قرار دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق اگرچہ گزشتہ سال اکتوبر سے جنگ بندی کا اعلان موجود ہے لیکن زمینی صورتحال اب بھی کشیدہ ہے۔ غزہ کے مختلف علاقوں خصوصاً خان یونس اور دیر البلح میں وقفے وقفے سے حملوں، ڈرونز کی پروازوں اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہتی ہیں۔ طبی ذرائع کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک 800 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حالیہ دنوں میں سیکیورٹی اجلاس منسوخ کر کے محدود مشاورت شروع کر دی ہے، جبکہ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اگر حماس نے ہتھیار نہ ڈالے تو جنگ کا دوبارہ آغاز تقریباً یقینی ہے۔اطلاعات کے مطابق امریکی حمایت یافتہ ایک نئے منصوبے کے تحت غزہ میں انسانی امداد، تعمیر نو اور سرحدی گزرگاہوں کے کھلنے کو حماس کی مرحلہ وار غیر مسلح ہونے کی شرط سے جوڑا گیا ہے۔ تاہم حماس سمیت دیگر فلسطینی تنظیموں نے اس تجویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مکمل جنگ بندی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔فلسطینی تجزیہ کاروں کے مطابق اس منصوبے کا مقصد مزاحمتی گروہوں کو سیاسی طور پر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے جبکہ امداد کو دباؤ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب زمینی حقائق بھی تبدیل ہو رہے ہیں، اسرائیلی فوج نے غزہ میں اپنے زیرِ کنٹرول علاقے کو بڑھاتے ہوئے تقریباً 59 فیصد علاقے تک رسائی حاصل کر لی ہے، جبکہ لبنان اور مغربی کنارے سے اضافی فوجی دستے بھی منتقل کیے جا رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ کی دھمکیاں ممکنہ طور پر سیاسی دباؤ بڑھانے اور اندرونی چیلنجز سے توجہ ہٹانے کی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہیں، کیونکہ فوج کو بیک وقت کئی محاذوں پر دباؤ کا سامنا ہے۔دوسری طرف فلسطینی عوام بدستور شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ غزہ کے عوام ایک اور ممکنہ جنگ کے خدشے میں زندگی گزار رہے ہیں۔




