امریکی خلائی ادارہ ناسا اپنے اسپیس کرافٹ وائجر 1 کو توانائی ختم ہونے سے بچانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔نظامِ شمسی کی حدود کو پار کرنے والا پہلا اسپیس کرافٹ وائجر 1 (جو 1977 میں لانچ کیا گیا تھا) کے ایندھن میں کمی واقع ہوئی تھی جس کی وجہ سے وقتی حل کے طور پر اسپیس کرافٹ کے کچھ آلات کو بند کرنا پڑا تھا۔خلائی ادارے کا کہنا تھا کہ اب اسپیس کرافٹ کی زندگی بڑھانے اور اس کا مکمل آپریشن بحال کرنے کے لیے ایک ’فار-آؤٹ‘ پلان پر کام کر رہا ہے۔وائجر 1 کائنات میں سب سے زیادہ فاصلے پر جانے والی انسان کی بنائی گئی کوئی شے ہے۔اس اسپیس کرافٹ کو ریڈیو آئیسوٹوپ تھرمو الیکٹرک جنریٹر سے توانائی ملتی ہے، جو ختم ہوتے پلوٹونیم سے بجلی پیدا کرتا ہے۔ توانائی کے اس نظام کا مطلب ہے کہ اسپیس کرافٹ کی توانائی میں ہر سال 4 واٹ کی کمی واقع ہوتی ہے۔




