اگر آپ دن بھر زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں تو یہ عادت صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔مگر اچھی خبر یہ ہے کہ ان اثرات سے بچنا بہت آسان ہے۔آسٹریلیا کی سڈنی یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر آپ گھنٹوں بیٹھ کر گزارتے ہیں تو قدموں کی تعداد کو بڑھا کر آپ متعدد امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ کم کر سکتے ہیں۔اس تحقیق میں 72 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دن بھر میں اضافی قدم چلنے سے مختلف امراض سے متاثر ہونے اور موت کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔تحقیق کے مطابق اگر آپ روزانہ 10 ہزار قدم چلتے ہیں تو اس سے قبل از وقت موت کا خطرہ 39 فیصد جبکہ امراض قلب بشمول ہارٹ اٹیک کا خطرہ 21 فیصد تک کم کر دیتا ہے۔اس سے قبل ان محققین کے ابتدائی تحقیقی کام میں زیادہ قدم چلنے اور قبل از وقت موت اور امراض قلب کے خطرے میں کمی کے درمیان تعلق ثابت کیا گیا تھا۔دیگر تحقیقی رپورٹس میں بھی دریافت کیا گیا کہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے سے قبل از وقت اور امراض قلب سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔مگر اس نئی تحقیق میں براہ راست جائزہ لیا گیا کہ چہل قدمی سے کس حد تک زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے کے اثرات سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔تحقیق میں شامل افراد کا ڈیٹا وئیر ایبل ڈیوائسز کے ذریعے اکٹھا کیا گیا۔محققین نے بتایا کہ چہل قدمی کو بہت زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے کا مکمل حل قرار نہیں دیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں کہ آپ گھنٹوں بیٹھے رہیں اور پھر کچھ دیر چہل قدمی کرکے مطمئن ہو جائیں مگر نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ہر طرح کی جسمانی سرگرمیاں صحت کے لیے اہم ہوتی ہیں۔نہوں نے مزید بتایا کہ اضافی قدموں سے آپ زیادہ وقت بیٹھنے سے مرتب ہونے والے منفی اثرات کی کافی حد تک روک تھام کرسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چلنا سب سے آسان جسمانی سرگرمی ہے جس کے لیے کچھ زیادہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور اس کو اپنانا بھی بہت آسان ہے۔محققین کے مطابق روزانہ کم از کم 4 سے 4500 قدم چلنے سے بھی امراض قلب کا خطرہ کافی حد تک گھٹ جاتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسن میں شائع ہوئے۔
اس سے قبل ستمبر 2022 میں سڈنی یونیورسٹی کی ہی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ دن بھر میں 10 ہزار قدم چلنا مختلف امراض اور موت کا خطرہ کم کرتا ہے۔تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ تیزرفتاری سے چلنا صحت کے لیے بہت زیادہ بہتر ہوتا ہے۔تحقیق کے دوران 2013 سے 2015 کے دوران 78 ہزار سے زیادہ برطانوی شہریوں کی مانیٹرنگ وئیر ایبل ٹریکرز کے ذریعے کی گئی۔محققین نے بتایا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ روزانہ 10 ہزار قدم چلنے سے دماغی تنزلی کا خطرہ 50 فیصدجبکہ دل کی شریانوں کے امراض اور کینسر کا خطرہ 30 سے 40 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ دن بھر میں 38 سو قدم چلنے سے بھی دماغی تنزلی کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔محققین نے کہا کہ جب دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھتی ہے اور خون زیادہ تیزی سے شریانوں میں بہتا ہے تو اس سے شریانوں کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔ خون کا اضافی بہاؤ پورے جسم، دماغ اور مسلز سمیت دیگر اعضا کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کینسر اور جسمانی ورم کے درمیان تعلق موجود ہے اور ورزش ورم کو کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ معمولات زندگی میں 10 ہزار قدم چلنا عادت بنانا زیادہ مشکل ہدف نہیں۔




